World
آبِ ہرمز میں آئل ٹینکرز پر حملہ اور امریکی کشیدگی
آبِ ہرمز میں پیش آنے والے ایک سیکیورٹی واقعے کے دوران دو آئل ٹینکرز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے جس کے نتیجے میں فلپائنی ملاحوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔ اس دوران ایران نے امریکہ کے حالیہ فضائی حملوں کے ردعمل میں خطے میں مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
بین الاقوامی منڈی اور توانائی کی سپلائی لائن کے لیے انتہائی حساس سمجھی جانے والی آبِ ہرمز میں پیش آنے والے ایک سنگین سیکیورٹی واقعے نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دو آئل ٹینکرز مبینہ طور پر بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ہیں جس کے باعث خطے میں کشیدگی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سعودی عرب کی معروف شپنگ کمپنی بحری نے تصدیق کی ہے کہ پیر کے روز پیش آنے والے اس واقعے کے دوران دو فلپائنی ملاح ہلاک ہو گئے ہیں۔ برطانوی بحری تجارتی آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے بھی آبِ ہرمز میں ٹینکرز کو پیش آنے والے سیکیورٹی واقعے میں جانی نقصان کی تصدیق کی ہے، جبکہ سمندری امور سے وابستہ ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، کورین شپنگ کمپنی نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں ہٹائے جانے والے ٹینکرز کو کورین ملکیت قرار دیا جا رہا تھا، جس سے اس واقعے کے حوالے سے مزید ابہام پیدا ہو گیا ہے۔
اس سنگین واقعے کے بعد تہران کی جانب سے بھی ایک سخت بیان سامنے آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں اور خطے میں ہونے والے حملے امریکہ کی طرف سے کیے جانے والے حالیہ فضائی حملوں کا براہ راست ردعمل ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے خطے میں موجود ان تمام اہداف کو نشانہ بنائے گا جو اس کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات میں شریک ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، آبِ ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں بیرل تیل دنیا کے مختلف حصوں کو روانہ کیا جاتا ہے۔ اس گزرگاہ پر اس قسم کے سیکیورٹی واقعات رونما ہونے سے بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جس سے عالمی معیشت پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
مختلف ممالک اور عالمی تنظیموں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر سفارتی ذرائع خطے میں جنگ کے بادل چھٹنے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پرامن مذاکرات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ تاہم، زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب براہ راست سمندری تجارت اور توانائی کی فراہمی کے راستوں کو متاثر کرنے لگی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس صورتحال کے مزید سنگین ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کیونکہ کسی بھی فریق کی جانب سے نرمی کا کوئی اشارہ نہیں مل رہا، اور بحری سلامتی کے اداروں نے جہاز رانی کرنے والی کمپنیوں کو اس خطے میں سفر کے دوران انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کی ہے۔