Technology
چین میں جنگلات کی بحالی اور کاربن سنک پر نئی سائنسی تحقیق
چینی اکیڈمی آف سائنسز کے سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ جنگلات کی بحالی کے عمل سے چین کے کاربن سنک کو نمایاں تقویت مل رہی ہے۔ اس مطالعے سے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور سبز مستقبل کے حصول کے لیے اہم سائنسی بنیادیں فراہم ہوتی ہیں۔
بیجنگ: چینی اکیڈمی آف سائنسز (CAS) کے ماہرین کی جانب سے کی جانے والی ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ قدرتی یا انسانی مداخلت کے بعد جنگلات کی بحالی کا عمل چین کے مجموعی کاربن سنک میں اضافے کا سب سے بڑا محرک ہے۔ محققین کے مطابق ملک بھر میں جنگلات کے رقبے کو بڑھانے اور ان کی حفاظت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے انتہائی مثبت ماحولیاتی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب جنگلات کو کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا نقصان کے بعد دوبارہ پنپنے کا موقع دیا جاتا ہے تو وہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کرتے ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو متوازن کرنے میں مدد ملتی ہے بلکہ خطے کی حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی توازن کو بھی پائیدار بنیادیں فراہم ہوتی ہیں۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے جنگلات کی بحالی کے قومی منصوبے طویل المعداد بنیادوں پر انتہائی مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ تحقیق اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ مستقبل میں کاربن کے اخراج کو صفر پر لانے کے ہندسے کے حصول کے لیے جنگلات کے انتظام اور ان کی دیکھ بھال کی پالیسیوں کو مزید وسعت دینا ہوگی۔ مطالعے کے نتائج بین الاقوامی سطح پر بھی ماحولیاتی تبدیلیوں کے ماہرین کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ درست حکمت عملی سے جنگلات کو دوبارہ بحাল کر کے کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کو روکا جا سکتا ہے۔