World
وینزویلا تیل معاہدہ: کیا امریکہ میں ایندھن سستا ہوگا؟
امریکہ اور وینزویلا کے درمیان تیل کے نئے معاہدوں نے عالمی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور اس سے مقامی سطح پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ماہرین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کیا اس بڑی پیشرفت سے عام صارفین کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔
امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے تیل کے ذخائر تک رسائی حاصل کرنے کے بعد عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا اس اقدام سے ایندھن کی بلند قیمتوں میں کوئی نمایاں کمی واقع ہوگی یا نہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس معاہدے کے تحت طویل مدتی رعایات حاصل کی گئی ہیں، جس سے امریکی کمپنیوں کو وینزویلا کے تیل کے میدانوں میں کام کرنے کا موقع ملے گا۔ روئٹرز اور بلومبرگ کی رپورٹس کے مطابق شیوران جیسی بڑی توانائی کمپنیاں وینزویلا میں اپنی پیداوار کو دگنا کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ اس دوران امریکی فرمیں ایسے تیل کے کنویں بھی اپنے قبضے میں لے رہی ہیں جو پہلے چینی اور روسی کمپنیوں کے زیرِ انتظام تھے۔ اس غیر متوقع اور ڈرامائی پیشرفت نے جہاں ایک طرف معاشی تجزیہ کاروں کو سوچ میں ڈال دیا ہے، وہیں دوسری طرف عام وینزویلا کے شہریوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے جو اس معاہدے کو ملکی وسائل کا ناجائز استعمال قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پیداوار میں اضافے سے طویل مدت میں سپلائی بہتر ہو سکتی ہے، لیکن فوری طور پر فیول کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے امکانات بہت کم ہیں۔ عالمی منڈی کے عوامل اور جغرافیائی سیاسی صورتحال اس بات کا تعین کریں گی کہ عام صارف کو اس کا کتنا فائدہ ملتا ہے۔