LIVE
Loading Breaking News...

عالمی حرارت اور ماحولیاتی تبدیلی: درجہ حرارت 1.8C تک پہنچنے کا انتباہ

News Image
اقوام متحدہ کی ایک اہم رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کا درجہ حرارت مقررہ 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کے ہدف سے تجاوز کر جائے گا۔ اس رپورٹ کے بعد عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملیوں پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔
عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے اداروں اور اقوام متحدہ کی ایک تازہ ترین اور اہم رپورٹ میں انتباہ کیا گیا ہے کہ دنیا کا درجہ حرارت طے شدہ حد سے تجاوز کر جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق عالمی حرارت کے کم از کم 1.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے جو کہ کرہ ارض کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا اب 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کے ہدف کو عبور کرنے کے راستے پر گامزن ہے، جس سے موسمیاتی تغیرات میں مزید تیزی آئے گی۔ اقوام متحدہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا کو اب 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کے اس اوور شوٹ کی تلخ حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا اور اس کے مطابق اپنی پالیسیوں کو ڈھالنا ہوگا۔ اگرچہ یہ حد عبور ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، لیکن ماحولیاتی سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ درجہ حرارت میں اس اضافے کو محدود کرنا اور اس کے اثرات کو کم کرنا اب بھی ممکن ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام ممالک کو فوری طور پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس دوران دنیا کے مختلف حصوں میں دیگر اہم خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں جن میں نیپال کے سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا استعمال اور ساحلی علاقوں کی نگرانی کے لیے جدید شارک ڈرونز کا استعمال شامل ہے۔ تاہم، بنیادی توجہ اب بھی عالمی حرارت کے بڑھتے ہوئے بحران اور اس سے نمٹنے کے ممکنہ راستوں پر مرکوز ہے، تاکہ مستقبل میں تباہ کن موسمیاتی اثرات سے بچا جا سکے۔