Business
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، کے ایس ای 100 انڈیکس میں بڑی گراوٹ
امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ کشیدگی کے اثرات پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر بھی نمایاں ہوئے جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1250 پوائنٹس کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث کاروباری ہفتے کے دوران شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا۔
کراچی: عالمی سطح پر امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی و عسکری کشیدگی کے منفی اثرات پاکستانی معیشت اور مالیاتی منڈیوں پر بھی پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروباری ہفتے کے دوران شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا جہاں سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت کے دباؤ کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس (KSE-100 Index) میں 1250 پوائنٹس کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس اچانک گراوٹ نے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور مارکیٹ کے شرکاء خطرے سے بچنے کے لیے محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق مشرق وسطیٰ کی اس تازہ ترین صورتحال نے عالمی توانائی کی منڈیوں اور سپلائی چین کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے، جس کے براہ راست اثرات اب ابھرتی ہوئی معیشتوں بالخصوص پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ تجارتی حلقوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث کاروباری حجم میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور بیشتر سرمایہ کار نیا سرمایہ لگانے سے گریزاں نظر آ رہے ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگست کے مہینے میں مجموعی طور پر بازارِ حصص کی کارکردگی سست رہی ہے اور حالیہ جغرافیائی سیاسی تناؤ نے اس سستی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اگرچہ ملکی سطح پر معاشی اشاریے بتدریج بہتری کی طرف گامزن ہیں، تاہم بیرونی جھٹکے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مقامی مارکیٹ کے جذبات کو فوراً متاثر کر رہے ہیں۔ کاروباری ماہرین کا مشورہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو اس نازک صورتحال میں جذباتی فیصلے کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور طویل مدتی معاشی بنیادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے پورٹ فولیو کا انتظام کرنا چاہیے۔ حکومت اور متعلقہ مالیاتی ادارے بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے معاشی بحران سے نمٹا جا سکے اور مارکیٹ کے اعتماد کو بحال رکھا جا سکے تاہم آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی سمت کا دار و مدار مکمل طور پر خطے کی سیاسی و عسکری صورتحال پر ہوگا۔