Business
امریکہ ایران کشیدگی: عالمی اسٹاک مارکیٹ اور بانڈز میں شدید مندی
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ خلیجی راستوں پر سپلائی کے خطرات اور بانڈز کے مسائل کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں بے یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایک دوسرے پر حملوں کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے اسٹاک مارکیٹس میں حصص کی قیمتوں میں گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے جبکہ بانڈز کی مارکیٹ میں بھی مندی کا رجحان مزید گہرا ہو گیا ہے۔ سرمایہ کار خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے ممکنہ معاشی اثرات کے حوالے سے سخت پریشان ہیں۔
دوسری جانب، تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ ابتدائی طور پر تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد نیچے آئیں، تاہم آبنائے ہرمز میں سپلائی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر منڈی کے تاجر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے ایرانی ٹینکرز کو نشانہ بنانے کے تازہ اقدامات کے بعد تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے، جس سے توانائی کے شعبے میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس تازہ تنازعے نے پہلے سے دباؤ کا شکار عالمی معیشت کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو کے جاری کردہ اعداد و شمار اور بانڈز پر پانچ فیصد تک کے ییلڈز (Yields) نے مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاری کے رحجانات کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ سرمایہ کار محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں ہیں جس کی وجہ سے خطرے والے اثاثوں سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
اس صورتحال کے تناظر میں کاروباری حلقوں اور پالیسی سازوں کی نظریں واشنگٹن اور تہران کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔ اگر یہ کشیدگی طویل ہوتی ہے یا آبنائے ہرمز کی سپلائی لائن متاثر ہوتی ہے تو اس کے عالمی افراط زر، توانائی کی قیمتوں اور مجموعی اقتصادی نمو پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔