Entertainment
عاطف اسلم کا بھارتی کوک اسٹوڈیو اور تجارتی موسیقی پر اظہار خیال
معروف پاکستانی گلوکار عاطف اسلم نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ بھارتی کوک اسٹوڈیو میں وہ جادو اور روح نہیں ہے جو ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ بھارتی پلیٹ فارم بہت زیادہ تجارتی بنیادوں پر کام کرتا ہے۔
پاکستانی موسیقی کی دنیا کے معروف اور بے تاج بادشاہ عاطف اسلم نے حال ہی میں اپنے ایک انٹرویو کے دوران بھارتی کوک اسٹوڈیو کے حوالے سے کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی کوک اسٹوڈیو میں وہ مخصوص جادو اور تاثیر غائب ہے جو سامعین کے دلوں کو چھو لے، اور اس کی سب سے بڑی وجہ وہاں حد سے زیادہ تجارتی رجحان کا پایا جانا ہے۔ عاطف اسلم کے مطابق موسیقی صرف کاروبار یا منافع کمانے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ روح کی تسکین کا ایک ذریعہ ہے جو دل سے نکل کر سیدھا دل میں اترتی ہے۔
گلوکار نے مزید کہا کہ جب کسی بھی فنی منصوبے میں تجارتی مفادات کو فن پر فوقیت دی جاتی ہے تو اس کی اصل روح اور مخلصی کہیں کھو جاتی ہے۔ پاکستانی کوک اسٹوڈیو اور دیگر پلیٹ فارمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں جب بھی موسیقی تخلیق کی جاتی ہے تو اس میں روایت، مٹی کی خوشبو اور جذبات کو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بننے والے گانے دنیا بھر میں بسنے والے مداحوں کے دلوں میں گھر کر جاتے ہیں اور طویل عرصے تک یاد رکھے جاتے ہیں۔
عاطف اسلم کے ان خیالات نے موسیقی کے حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ان کے مداحوں اور موسیقی کے ناقدین کی جانب سے اس بیان پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ بہت سے شائقین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ آج کل کی تجارتی موسیقی میں وہ گہرائی اور تازگی نہیں رہی جو ماضی کے گیتوں میں ہوا کرتی تھی۔ عاطف اسلم کی یہ رائے ان کی موسیقی کے ساتھ گہری وابستگی اور فن کے تئیں ان کی غیر مشروط لگن کو ظاہر کرتی ہے، جو ہمیشہ سے ان کے فنی سفر کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔