LIVE
Loading Breaking News...

برہم کا پی ایم کیوز ڈیبیو اور سیاست کا نیا انداز

News Image
برہم نے وزیراعظم کے سوال و جواب کے سیشن میں کیمی بیڈنچ کے ساتھ روایتی انداز میں تلخ جملوں کا تبادلہ کیا۔ اس ڈیبیو سے اندازہ ہوا کہ سیاست میں ایک نیا اور مختلف انداز متعارف کرانا کتنا بڑا چیلنج ہے۔
برطانوی سیاست میں اس وقت ایک نیا باب رقم ہو رہا ہے جہاں رہنماؤں سے روایتی تلخی کو چھوڑ کر ایک نئے سیاسی کلچر کو اپنانے کی توقع کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں برہم کا وزیراعظم کے سوال و جواب کے سیشن (پی ایم کیوز) میں ڈیبیو اس حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ موقع اس بات کا امتحان تھا کہ آیا نئے رہنما سیاست کے روایتی اور جارحانہ انداز کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں۔ تاہم، اس ڈیبیو کے دوران جو مناظر دیکھنے میں آئے وہ بہت زیادہ مختلف نہیں تھے۔ کیمی بیڈنچ کے ساتھ برہم کے تبادلہ خیال کا آغاز اگرچہ خوشگوار ماحول میں ہونے کی توقع تھی، لیکن جلد ہی یہ بحث پرانی روش پر لوٹ گئی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان روایتی انداز میں سیاسی نوک جھونک اور طعنہ زنی کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس نے مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ سیاست میں نیا پن لانا بظاہر جتنا آسان لگتا ہے، عملی طور پر یہ اتنا ہی مشکل مرحلہ ہے۔ اس صورتحال نے سیاسی حلقوں میں یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ عوام اب روایتی سیاست سے بیزار ہو چکے ہیں اور وہ سیاستدانوں سے زیادہ سنجیدہ اور تعمیری رویے کی توقع رکھتے ہیں۔ جب تک سیاسی جماعتیں اور ان کے سرکردہ رہنما ذاتی حملوں اور جملے بازی سے گریز نہیں کریں گے، اس وقت تک سیاست میں کسی بھی قسم کی مثبت تبدیلی لانا ناممکن ہوگا۔ برہم کے لیے بھی آنے والے دنوں میں یہ ایک بڑا امتحان ہوگا کہ وہ اس روایتی دائرے سے باہر نکل کر اپنی قیادت کا لوہا منواتے ہیں۔ مجموعی طور پر، برہم کا یہ پہلا بڑا پارلیمانی معرکہ اس چیلنج کی بھرپور عکاسی کرتا ہے جو سیاست کے نئے اور صاف ستھرے انداز کو اپنانے کی راہ میں حائل ہیں۔ اگرچہ یہ راستے کا آغاز ہے اور رہنماؤں کو خود کو ڈھالنے کے لیے وقت درکار ہوگا، لیکن ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ پرانی عادتیں اور سیاسی رسہ کشی اتنی آسانی سے ختم ہونے والی نہیں ہے۔ عوام اور میڈیا کی نگاہیں اب اس بات پر ہیں کہ آیا آنے والے ہفتوں میں اس رویے میں کوئی تبدیلی آتی ہے یا نہیں۔