World
روس اور برطانیہ کشیدگی: پیوٹن کی دھمکیوں کے پس منظر پر تجزیہ
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے برطانیہ کو دی گئی دھمکیوں کا مقصد ماسکو کے اصل ارادوں کے بارے میں مغرب کو دباؤ میں رکھنا ہے۔ یہ حکمت عملی دراصل مغربی ممالک کے خلاف روس کی طویل مدتی مہم کا ایک اہم حصہ ہے۔
ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے برطانیہ کو دی جانے والی مبہم اور سخت دھمکیاں دراصل مغرب کے خلاف روس کی وسیع تر سیاسی اور نفسیاتی مہم کا ایک اہم حصہ ہیں۔ معروف بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کریملن کا مقصد برطانوی حکومت اور عوام کو اس بات پر مجبور کرنا ہے کہ وہ مسلسل تناؤ اور غیر یقینی کی کیفیت کا شکار رہیں۔ روسی قیادت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ برطانوی پالیسی ساز ماسکو کے حقیقی ارادوں کے بارے میں ہمیشہ اندازے لگاتے رہیں اور کسی بھی متوقع اقدام سے خوفزدہ رہیں۔ یہ حکمت عملی روس اور مغربی ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے جہاں سفارتی محاذ پر لفظی جنگ اور دباؤ کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات کا مقصد نہ صرف برطانیہ بلکہ اس کے تمام اتحادیوں کو نفسیاتی طور پر دباؤ میں لانا ہے۔ سرد جنگ کے دور کی یاد تازہ کرنے والے یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ ماسکو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے روایتی اور غیر روایتی دونوں قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ برطانوی حکام اور سکیورٹی اداروں نے بھی روسی عزائم پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور وہ کسی بھی ممکنہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ دوسری طرف عالمی سطح پر اس قسم کے بیانات کے بعد سیاسی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ اس سے دنیا بھر میں امن و امان کی صورتحال مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ روس اور مغرب کے درمیان یہ کشمکش آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے جس کے عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔