World
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود ہلاکتیں، تعداد 1300 سے متجاوز
حماس کے زیر انتظام چلنے والی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں جنگ بندی اور معاہدوں کے باوجود اس سال 900 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اکتوبر سے اب تک شہداء کی مجموعی تعداد 1300 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں 301 معصوم بچے بھی شامل ہیں۔
حماس کے زیر انتظام چلنے والی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق غزہ کی پٹی میں جاری پرتشدد کارروائیوں اور فائر بندی کے باوجود انسانی نقصان کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال کے دوران اب تک 900 سے زائد فلسطینی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جو اس خطے میں جاری گہرے انسانی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی سطح پر امن کی کوششوں اور جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود زمینی حقائق انتہائی تشویشناک بنے ہوئے ہیں اور عام شہریوں کو مسلسل جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
وزارت صحت کی رپورٹس کے مطابق اس سال ہونے والی ہلاکتوں کے اضافے کے بعد، 10 اکتوبر سے لے کر اب تک غزہ کی پٹی میں کل جاں بحق ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد اب 1300 سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ ان افسوسناک اعداد و شمار میں سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی بات بچوں کی بڑی تعداد میں شہادت ہے، جہاں صرف معصوم بچوں کی اموات کی تعداد 301 تک پہنچ چکی ہے۔ یہ صورتحال بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اداروں کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے جو جنگ زدہ علاقوں میں شہریوں بالخصوص بچوں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔
بین الاقوامی برادری اور مبصرین کی جانب سے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ طبی عملے اور اسپتالوں کو بھی شدید دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ زخمیوں کی اتنی بڑی تعداد کو طبی امداد فراہم کرنا انتہائی کٹھن ہوتا جا رہا ہے۔ خوراک، ادویات اور بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قلت نے اس انسانی المیے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ طبی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر موثر جنگ بندی اور امدادی سامان کی بلا تعطل رسائی کو یقینی نہ بنایا گیا تو جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں مزید خطرناک اضافہ ہو سکتا ہے۔