LIVE
Loading Breaking News...

یکم اکتوبر کو تقریباً 700 قیدیوں کی قبل از وقت رہائی کا اعلان

News Image
نظرثانی شدہ قبل از وقت رہائی کے منصوبے کے تحت یکم اکتوبر کو تقریباً 700 قیدیوں کو جیلوں سے رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس نئے اقدام سے حکومت کے طے شدہ شیڈول پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
برطانوی حکومت کی جانب سے قیدیوں کی قبل از وقت رہائی کے حوالے سے ایک نظرثانی شدہ نیا منصوبہ سامنے آیا ہے، جس کے تحت یکم اکتوبر کو تقریباً 700 قیدیوں کو جیلوں سے رہا کر دیا جائے گا۔ اس اہم اقدام کا مقصد جیلوں میں بڑھتی ہوئی گنجائش کے بحران سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ قانون کے مطابق قیدیوں کی بحالی کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ رہائیاں ایک طے شدہ اور منظم حکمت عملی کے تحت عمل میں لائی جا رہی ہیں تاکہ معاشرے کے امن کو بھی یقینی بنایا جا سکے اور انصاف کے تقاضے بھی پورے ہوں۔ نئے جاری کردہ منصوبے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حکومت اپنے وعدے پر قائم ہے اور اس نے مجرموں کی رہائی کے حوالے سے اصل شیڈول کو برقرار رکھا ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حکام اس معاملے میں کسی قسم کی غیر ضروری تاخیر کے حامی نہیں ہیں اور تمام متعلقہ اداروں کو احکام جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ یکم اکتوبر کو تمام طے شدہ کارروائی کو خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ رہائی پانے والے ان قیدیوں کی کونسلنگ اور مانیٹرنگ کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ معاشرے کا مفید شہری بن سکیں۔ ماہرین قانون اور سماجی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں انسانی حقوق کی تنظیمیں اس اقدام کو سراہ رہی ہیں، وہیں دوسری طرف بعض حلقوں کی طرف سے حفاظتی اقدامات کے بارے میں تشویش کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ تمام فیصلے انتہائی سوچ بچار اور قانونی ماہرین کی مشاورت کے بعد کیے گئے ہیں۔ آئندہ آنے والے دنوں میں اس منصوبے کے نفاذ کے بعد جیلوں پر دباؤ میں کمی آنے کی توقع ہے اور حکومت اس پورے عمل کی کڑی نگرانی بھی کرے گی۔