World
نوٹنگھم حملے: متاثرہ خاندانوں کو حملہ آور کے ماضی سے بے خبر رکھنے کا انکشاف
نوٹنگھم حملوں کے متاثرہ خاندانوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں حملہ آور کے پرتشدد ماضی کے بارے میں پہلے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ ناٹنگھم شائر پولیس نے اس معاملے کی شکایت موصول ہونے کے بعد تحقیقات کے لیے آئی او پی سی کو بھیج دیا ہے۔
برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں پیش آنے والے ہولناک حملوں کے متاثرہ خاندانوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ انہیں حملہ آور کے پرتشدد ماضی اور اس کی مجرمانہ سرگرمیوں کے بارے میں اندھیرے میں رکھا گیا۔ خاندانوں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اور متعلقہ اداروں کی طرف سے انہیں بروقت معلومات فراہم کی جاتیں تو شاید اس المناک سانحے سے بچا جا سکتا تھا اور قیمتی جانیں ضائع ہونے سے رک سکتی تھیں۔ اس سنگین صورتحال کے بعد عوامی سطح پر بھی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ناٹنگھم شائر پولیس نے اس حوالے سے باضابطہ شکایت موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے خدشات اور الزامات انتہائی نوعیت کے ہیں، جن کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔ اسی تناظر میں پولیس نے اس پورے معاملے کو مزید تحقیقات کے لیے انڈیپنڈنٹ آفس فار پولیس کنڈکٹ (IOPC) کے پاس ریفر کر دیا ہے تاکہ تمام حقائق کو شفاف طریقے سے سامنے لایا جا سکے اور معلوم ہو سکے کہ آیا اس حوالے سے کسی سطح پر غفلت برتی گئی تھی۔
آئی او پی سی کی جانب سے اس معاملے کی تفصیلی جانچ پڑتال متوقع ہے جس میں یہ دیکھا جائے گا کہ آیا پولیس یا دیگر اداروں کے پاس پہلے سے ایسے شواہد موجود تھے جو حملہ آور کے خطرے کی نشان دہی کرتے ہوں۔ متاثرہ خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کو مکمل شفاف بنایا جائے اور ذمہ داران کا تعین کر کے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ یہ واقعہ برطانوی معاشرے میں سکیورٹی پروٹوکولز اور اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر ابھرا ہے، جس پر اب اعلیٰ سطح پر غور کیا جا رہا ہے۔