World
یمن میں کھجور کی کاشت اور کسانوں کے معاشی چیلنجز
یمنی کسان بنیادی ڈھانچے کی خرابی اور موسمیاتی چیلنجز کے باوجود کھجور کی روایت کاشت پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ فصل انتہائی مشکل حالات میں کاشتکاروں کے لیے ایک اہم معاشی سہارا فراہم کر رہی ہے۔
یمن میں جاری شدید معاشی اور سیاسی بحران کے درمیان، کھجور کی فصل ملک کے کسانوں کے لیے بقا کا ایک اہم ذریعہ بن گئی ہے۔ خراب بنیادی ڈھانچے اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زرعی شعبے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود کسان روایتی طریقوں پر عمل کرتے ہوئے کھجور کی کٹائی اور کاشت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ملک میں روزگار کے متبادل مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کی وجہ سے یہ قدیم پیشہ اب لاکھوں دیہی خاندانوں کی کفالت کا واحد سہارا بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق یمن کی زرعی تاریخ میں کھجور کے درخت کو ہمیشہ سے مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے کیونکہ یہ خشک سالی اور انتہائی موسم کو برداشت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ موجودہ دور میں جب ملک کو مواصلاتی رابطوں کی خرابی اور وسائل کی کمی کا سامنا ہے، کھجور کے باغات کسانوں کو خاطر خواہ مالی مدد فراہم کرتے ہیں۔ کسان روایتی اور صدیوں پرانے طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے پیداوار کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ان کی دلیری اور محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
تاہم، اس شعبے کو درپیش چیلنجز بھی کم نہیں ہیں۔ جدید آبپاشی کے نظام کا فقدان، مناسب کولڈ سٹوریج اور مارکیٹنگ کی سہولیات کی عدم موجودگی کسانوں کی آمدنی کو محدود کر دیتی ہے۔ کسانوں کا مطالبہ ہے کہ بین الاقوامی ادارے اور مقامی حکام زراعت کی بہتری کے لیے اقدامات کریں تاکہ اس تاریخی صنعت کو بچایا جا سکے۔ اس کے باوجود، کھجور کے باغات سے وابستہ افراد اپنی اس روایت سے وابستہ ہیں کیونکہ یہ ان کی اقتصادی زندگی کی ڈور کو تھامے ہوئے ہے۔