LIVE
Loading Breaking News...

روس یوکرین جنگ: پیوٹن اور زیلنسکی کی ایک دوسرے کو دھمکیاں

News Image
روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی میں اس وقت مزید شدت آگئی جب دونوں ممالک میں شدید فضائی حملے ریکارڈ کیے گئے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرینی ہم منصب پر دہشت گردی کا الزام عائد کیا ہے جبکہ یوکرین نے غیر ملکی ایئرلائنس کو روسی فضائی حدود استعمال کرنے سے خبردار کردیا ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری مسلح تنازعہ ایک نئے اور خطرناک موڑ میں داخل ہو گیا ہے جہاں دونوں طرف سے شدید فضائی حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔ اس سنگین صورتحال کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف انتہائی سخت بیانات اور دھمکیاں سامنے آئی ہیں جس سے خطے میں امن کی بحالی کے تمام امکانات مزید معدوم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ روسی دارالحکومت اور اہم علاقوں پر حالیہ حملوں کے پس منظر میں صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرینی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یوکرین پر دہشت گردانہ ہتھکنڈے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ روسی حکام کا موقف ہے کہ یوکرین کی جانب سے روس کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانا کھلی جارحیت ہے جس کا مناسب اور کرارا جواب دیا جائے گا تاکہ ملک کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور اعلیٰ عسکری حکام نے بھی دفاعی پوزیشن کو مزید سخت کرتے ہوئے دنیا بھر کی ایئرلائنس اور بین الاقوامی پروازوں کو انتباہ جاری کیا ہے۔ یوکرینی حکومت کی طرف سے جاری کردہ بیان میں تمام غیر ملکی ایئرلائنس سے کہا گیا ہے کہ وہ سلامتی کے شدید خطرات کے پیش نظر روسی فضائی حدود کے استعمال سے گریز کریں کیونکہ یہ فضائی راستے اب جنگی کارروائیوں کی وجہ سے انتہائی غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے روس اور یوکرین کے درمیان بڑھتی ہوئی اس کشیدگی اور دونوں رہنماؤں کی جانب سے صریح دھمکیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فریقین نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا اور جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی میز پر آنے سے گریز کیا تو اس تنازعے کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔