LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران جنگی کشیدگی، تہران کا امریکی اڈوں پر جوابی حملہ

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان جولائی کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا فوجی ٹکراؤ سامنے آیا ہے جس میں دونوں جانب سے فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی فضائی بمباری کا جواب دیتے ہوئے اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے مابین جاری کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان جولائی کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا فوجی تبادلہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی فورسز نے ایران پر مزید فضائی حملے کیے ہیں جس سے خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کا سیکیورٹی ماحول انتہائی نازک صورتحال اختیار کر چکا ہے اور عالمی برادری اس پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ امریکی حملوں کا نشانہ بننے والے علاقوں میں اہم تزویراتی مقامات شامل ہیں جن کے بعد صورتحال تیزی سے بگڑ گئی۔ دوسری جانب تہران نے بھی خاموش رہنے کے بجائے فوری اور سخت ردعمل کا مظاہرہ کیا۔ ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو اپنے میزائلوں اور ڈرونز کا نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی جب امریکی جنگی طیاروں نے لارا ک آئلینڈ سمیت مختلف ایرانی تنصیبات پر شدید بمباری کی تھی۔ اس بڑے فوجی تبادلے کے بعد خطے میں موجود امریکی اور اتحادی تنصیبات کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے جبکہ دفاعی نظام کو بھی کسی بھی ممکنہ بڑے حملے سے نمٹنے کے لیے تیار کر دیا گیا ہے۔ عالمی سیاسی اور عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فریقین کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو یہ تنازع پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے سفارتی سطح پر رابطے تیز کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکا جا سکے۔