Pakistan
پاکستان اور کرغزستان اقتصادی شراکت داری معاہدہ، ماہرین کی تحسین
مبصرین نے پاکستان اور کرغزستان کے مابین حالیہ اقتصادی شراکت داری کے معاہدے کو دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہِ کرغزستان کے دوران اس معاہدے کو خطے میں تجارت اور معاشی تعاون بڑھانے کی جانب بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔
اسلام آباد اور بشکیک کے تعلقات میں ایک نیا باب رقم کرتے ہوئے اقتصادی ماہرین نے پاکستان اور کرغزستان کے درمیان طے پانے والے نئے اقتصادی شراکت داری کے معاہدے کو سراہا ہے۔ اس اہم پیشرفت کو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور معاشی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے والا اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں باہمی تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے سے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتوں کو استحکام ملے گا بلکہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے مابین تجارتی راہیں بھی مزید مستحکم ہوں گی۔
حالیہ دنوں میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کرغزستان کا اہم دورہ کیا جہاں انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے تناظر میں مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور دوطرفہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس دورے کے دوران وزیراعظم نے عطا بیت میموریل کمپلیکس کا دورہ بھی کیا اور کرغزستان کی تاریخی و ثقافتی میراث کو خراج تحسین پیش کیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، پاکستان کے لیے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت سنبھالنے کا یہ موقع خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ قومی قیادت اور سیاسی شخصیات نے اس کامیابی پر پوری قوم کو مبارکباد دی ہے اور اسے پاکستان کی بڑی سفارتی فتح قرار دیا ہے۔
دوسری جانب، دفاعی اور معاشی امور پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ دفاعی اور اقتصادی معاہدے کسی بھی تیسرے فریق یا ریاست کے خلاف نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن، ترقی اور باہمی تعاون کی پالیسی پر گامزن ہے اور اس کا مقصد تمام ہمسایہ و دوست ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کے تحت تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ کرغزستان کے ساتھ ہونے والا یہ اقتصادی معاہدہ اسی وسیع تر وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد خطے سے غربت کا خاتمہ اور مشترکہ خوشحالی کو یقینی بنانا ہے۔