LIVE
Loading Breaking News...

مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی، پاکستان کی امن کوششیں جاری رکھنے کی یقین دہانی

News Image
پاکستان نے حالیہ کشیدگی کے باوجود مشرق وسطیٰ میں امن کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب سے ملاقات میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اسلام آباد: پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کے باوجود خطے میں امن کی بحالی کے لیے پرامید رہنے کا اظہار کیا ہے۔ پاکستانی قیادت کا ماننا ہے کہ خطے میں دیرپا استحکام صرف اور صرف سفارتی مذاکرات اور باہمی افہم و تفہیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ حالیہ امریکی اور ایرانی کشیدگی کے تناظر میں بھی اسلام آباد نے اپنے امن دوست مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ مزید خون خرابے سے بچا جا سکے۔ حالیہ اعلیٰ سطحی سفارتی ملاقاتوں کے دوران، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی حکام کے ساتھ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر پاکستانی فریق کی جانب سے واضح کیا گیا کہ اسلام آباد خطے کے تمام ممالک کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے موثر کردار ادا کیا جا سکے۔ پاکستان ماضی میں بھی مختلف ممالک کے درمیان ثالثی کے فرائض انجام دیتا رہا ہے اور موجودہ بحران میں بھی فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوشاں ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ عبوری امن معاہدوں کی پاسداری کریں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو خطے کو ایک اور بڑی جنگ کی طرف دھکیل دے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ یہ خطے کی معیشت اور عوام کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے تمام تر اختلافات کو پرامن طریقے سے بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ اسلام آباد میں پالیسی سازوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا امن براہ راست عالمی امن اور پاکستان کی اپنی سلامتی اور معیشت سے جڑا ہوا ہے۔ خلیجی خطے میں لاکھوں پاکستانی تارکین وطن مقیم ہیں جو وہاں کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو قیمتی ترسیلات زر بھی بھیجتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں کسی بھی قسم کے بڑے تنازع کو روکنے کے لیے بین الاقوامی برداری کے ساتھ مل کر اپنا مثبت سفارتی کردار ادا کرتا رہے گا۔