Pakistan
امریکہ ایران کشیدگی: پاکستان کی فریقین میں مذاکرات کی امید
پاکستان نے خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اسلام آباد کو امید ہے کہ سفارتی کوششیں رنگ لائیں گی اور خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے گا۔
اسلام آباد: خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں پاکستان نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین مسائل کا حل صرف اور صرف گفت و شنید اور سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور حکومتی حلقوں کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے مکالمے کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان جو کہ دونوں ہمسایہ اور اہم ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتا ہے، خطے کو کسی بھی نئی جنگ یا بڑے بحران سے بچانے کے لیے ہر ممکن سفارتی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان مختلف امور پر پیدا ہونے والے تناؤ نے پوری دنیا بالخصوص مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جس پر عالمی برادری بھی تشویش میں مبتلا ہے۔ دوسری جانب، عالمی سطح پر بھی مبصرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ پاکستان کا موقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور تمام تنازعات کو میز پر بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ اسلام آباد کے پالیسی ساز اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی بحالی سے نہ صرف دو طرفہ کشیدگی کم ہوگی بلکہ اس کے مثبت اثرات پورے خطے کی معیشت اور سکیورٹی پر بھی مرتب ہوں گے۔ حکومتِ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔