World
صدر شی جن پنگ کا دورہ مصر اور مشرق وسطیٰ کا نیا سکیورٹی فریم ورک
چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنے نادر دورہ مصر کے دوران مشرق وسطیٰ میں ایک نئے سکیورٹی فریم ورک کی تشکیل پر زور دیا ہے۔ اس دورے کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان مصنوعی ذہانت اور الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت میں تعاون کے لیے کئی اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنے ایک نادر اور انتہائی اہم دورہ مصر کے دوران مشرق وسطیٰ کے خطے میں ایک نئے اور پائیدار سکیورٹی فریم ورک کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران جنگ اور دیگر کشیدہ صورتحال کی وجہ سے روایتی اتحاد اور جیو پولیٹیکل رس رسوخ تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، چینی صدر کے اس دورے کا مقصد خطے میں چین کے اقتصادی اور تزویراتی قدموں کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ مصر کے دارالحکومت میں چینی اور مصری صدور نے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے متعدد دو طرفہ معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کیے۔ ان معاہدوں کا بنیادی ہدف خاص طور پر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی اور الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت میں سرمایہ کاری کو وسیع کرنا ہے۔ مصر اور چین کے درمیان یہ اقتصادی اشتراک نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتوں کے لیے سودمند ہے بلکہ یہ مشرق وسطیٰ کے بدلتے ہوئے منظر نامے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی بھی غمازی کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ اپنے سفارتی اور تجارتی تعلقات کو اس طرح پروان چڑھا رہا ہے کہ وہ خطے میں امن اور استحکام کا ایک اہم فریق بن کر ابھرے۔ اس سکیورٹی فریم ورک کے ذریعے چین خطے کے تنازعات کو کم کرنے اور اقتصادی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کا خواہاں ہے تاکہ عالمی سپلائی چین اور توانائی کے راستے محفوظ رہ سکیں۔