LIVE
Loading Breaking News...

برنھم پر معیشت کے معاملے پر دباؤ، برطانوی قرضوں میں اضافہ

News Image
برطانوی وزیر اعظم کے سوالات کے پہلے سیشن میں برنھم کو معاشی صورتحال اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے حوالے سے شدید سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے دفاع میں ٹیکسوں میں کمی اور توانائی کے بلوں پر وی اے ٹی گھٹانے کے اقدامات کا ذکر کیا۔
برطانیہ کے سیاسی منظر نامے میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب پہلے وزیر اعظم کے سوالات یعنی پی ایم کیو ایس کے سیشن کے دوران برنھم کو ملکی معیشت اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے حوالے سے شدید سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ سیشن کا آغاز ہی معاشی چیلنجز اور عوامی مشکلات کے ذکر سے ہوا، جہاں حزب اختلاف کے رہنماؤں نے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومتی اقدامات ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے برطانوی قرضوں کی لاگت میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے عام شہریوں اور کاروباری طبقے کے لیے بھی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ان تمام تنقیدات اور مشکل سوالات کا جواب دیتے ہوئے برنھم نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی حکومت معیشت کو مستحکم کرنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں اپنے دفاع کے دوران بتایا کہ ان کی انتظامیہ پہلے ہی متعدد اہم ٹیکسوں میں کمی کر چکی ہے تاکہ عام آدمی کو مہنگائی کے دباؤ سے نکالا جا سکے۔ ان اقدامات میں توانائی کے بلوں پر وی اے ٹی میں کمی اور ہاسپیٹالیٹی یعنی مہمانداری کے شعبے سے وابستہ کاروباری اداروں کے لیے بزنس ریٹس میں ریلیف دینا بھی شامل ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت کو معاشی محاذ پر مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ عالمی سطح پر مالیاتی دباؤ اور ملکی قرضوں کی بڑھتی ہوئی لاگت برطانوی معیشت کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکی ہے۔ حکومت کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے مزید مؤثر اور طویل المدتی معاشی اصلاحات متعارف کرانا ہوں گی تاکہ عوام کا اعتماد بحال رکھا جا سکے اور ملکی معیشت کو استحکام کی طرف گامزن کیا جا سکے۔