World
نیپال سیلاب تباہی: مٹی اور ملبے کا ڈھیر بننے والا گاؤں اور امدادی کوششیں
نیپال میں آنے والے شدید سیلاب نے ایک پُرآسائش گاؤں کو مکمل طور پر ملبے اور مٹی کا ڈھیر بنا ڈالا ہے۔ مقامی لوگ اب بھی اپنے پیاروں کی لاشیں تلاش کرنے اور امدادی کارروائیوں کے منتظر ہیں۔
نیپال میں حالیہ دنوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے ملک کے مختلف حصوں میں قہر ڈھایا ہے، جس کی وجہ سے کئی بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئی ہیں۔ ایک مقامی گاؤں میں، جو اب صرف کیچڑ، مٹی اور ملبے کا ڈھیر نظر آتا ہے، زندگی کا نام و نشان مٹ چکا ہے۔ بی بی سی کی جنوبی ایشیا کی نمائندہ آزاد مشیری نے اس اجڑے ہوئے گاؤں کا دورہ کیا اور وہاں کے ایک بدقسمت رہائشی سے بات کی جن کی دنیا اس اچانک آفت نے اجاڑ دی ہے۔ یہ مقامی شخص اس وقت بھی اپنے پیاروں بالخصوص اپنی اہلیہ کی لاش کے ملبے سے نکالے جانے کا شدت سے انتظار کر رہا ہے۔
سیلاب کے اس ریلے نے نہ صرف لوگوں کے مکانات کو ملبے میں تبدیل کیا بلکہ ان کی جمع پونجی اور روزگار کے وسائل بھی ہمیشہ کے لیے بہا لے گئے۔ تباہ شدہ علاقے میں ہر طرف پھیلی ہوئی کیچڑ اور مٹی اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ یہاں کس قیامت کا منظر گزرا ہوگا۔ مقامی آبادی کے مطابق، پانی اتنی تیزی سے رہائشی علاقوں میں داخل ہوا کہ کسی کو بھی سنبھلنے یا محفوظ مقام پر منتقل ہونے کا موقع نہیں مل سکا۔ کئی خاندان اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے ہیں جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
حکومت اور امدادی اداروں کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز تاحال جاری ہیں، تاہم دشوار گزار راستوں اور کثیر مقدار میں جمع ہونے والے ملبے کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ افراد کھلے آسمان کے نیچے کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور انہیں فوری طور پر خوراک، پینے کے صاف پانی اور طبی امداد کی ضرورت ہے۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام تر دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری رکھا جائے گا تاکہ غمزدہ خاندانوں کو کچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔