World
یورپی یونین اور نیٹو کا جرمنی میں کشیدگی کے بعد روس پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ
جرمنی کے لیپزگ ایئرپورٹ پر مبینہ طور پر ناکام ڈرون حملے کا ذمہ دار روس کو ٹھہرائے جانے کے بعد یورپی یونین اور نیٹو نے ماسکو پر دباؤ بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ مغربی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ روس کی بڑھتی ہوئی جارحانہ کارروائیاں خطے میں سیکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔
برسلز (نیکسٹورا نیوز اردو) یورپی یونین اور عسکری اتحاد نیٹو نے جرمنی میں ہونے والی تازہ ترین کشیدگی اور ایک ناکام ڈرون حملے کے واقعے کے بعد روس پر دباؤ میں مزید اضافہ کرنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ برلن کی جانب سے یہ باضابطہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ جرمنی کے مصروف ترین لیپزگ ایئرپورٹ پر ہونے والے ڈرون حملے کی کوشش کے پیچھے ماسکو کا ہاتھ ہے، جس نے مغربی ممالک کی تشویش میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد یورپی اور مغربی دارالحکومتوں میں انتہائی ہنگامی نوعیت کی سفارتی اور دفاعی مشاورت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نیٹو کے اعلیٰ حکام کا ماننا ہے کہ روس کی جانب سے یورپ بھر میں کی جانے والی تخریب کاری کی سرگرمیاں اب برداشت سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ اتحادی ممالک کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں روس کے روئیے میں خطرناک حد تک لاپرواہی دیکھی گئی ہے، جو کہ نہ صرف یورپی سلامتی بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ نیٹو اتحاد نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنی فضائی اور سرحدی نگرانی کو مزید سخت کریں گے تاکہ اس طرح کے کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
دوسری جانب یورپی یونین کے وزرائے خارجہ بھی اس واقعے کے بعد روس کے خلاف پابندیوں کے نئے اور سخت پیکج پر غور کر رہے ہیں۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان نئی پابندیوں کا مقصد روسی انٹیلی جنس نیٹ ورک، اس کی عسکری فراہمی کی زنجیروں اور ان عناصر کو نشانہ بنانا ہے جو یورپی سرزمین پر اس قسم کے خفیہ آپریشنز میں ملوث ہیں۔ یورپی رہنماؤں کا دوٹوک مؤقف ہے کہ وہ اپنی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ماسکو کو اس کی جارحانہ پالیسیوں کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
اس پیش رفت کے بعد بین الاقوامی سطح پر سیاسی اور عسکری تناؤ میں ایک بار پھر شدید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے بعد سے روس اور مغربی ممالک کے درمیان اعتماد کا جو بحران پیدا ہوا تھا، وہ اب براہ راست محاذ آرائی اور سیکیورٹی خدات کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یورپی ممالک کی جانب سے روس پر سفارتی اور معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے مزید اہم اعلانات متوقع ہیں۔