Business
عالمی بانڈ مارکیٹ میں بحران اور قرض کی بڑھتی ہوئی لاگت
مصنوعی ذہانت پر بھاری سرمایہ کاری اور ایران کی جنگ کے باعث عالمی سطح پر قرض لینے کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بانڈ مارکیٹ میں جاری اس بحران نے دنیا بھر کے رہنماؤں اور معاشی ماہرین کی نیندیں اڑا دی ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت شدید بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ بانڈ مارکیٹ میں اٹھنے والے طوفان نے دنیا بھر کے معاشی پالیسی سازوں اور سیاسی رہنماؤں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے تجزیہ کار فیصل اسلام کے مطابق، دنیا بھر میں قرض لینے کی لاگت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کی بنیادی وجوہات میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کے شعبے میں کیے جانے والے ہیوی اخراجات اور مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری تنازعہ شامل ہیں۔ یہ عوامل عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو اپنانے اور اس میں غولڈ رش کی طرح سرمایہ کاری کرنے کے لیے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور حکومتیں وسیع پیمانے پر فنڈز اکٹھا کر رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے بڑے پیمانے پر قرضے لیے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے بانڈ مارکیٹ میں طلب و رسد کا توازن بگڑ گیا ہے۔ جب بانڈز کی فروخت بڑھتی ہے تو ان پر ملنے والا منافع (yield) اور مجموعی طور پر قرض حاصل کرنے کی شرحِ سود اوپر چلی جاتی ہے، جس کا براہ راست اثر عام صارف سے لے کر بڑی حکومتوں تک پڑتا ہے۔ دوسری جانب، ایران کی جاری جنگ اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے توانائی کی سپلائی اور عالمی سپلائی چینز کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر رکھا ہے، جو اب محفوظ سرمایہ کاری کی طرف بھاگ رہے ہیں لیکن بلند شرحِ سود کے ساتھ قرض لینا ان کے لیے بھی مہنگا پڑ رہا ہے۔ دنیا بھر کے مرکزی بینک اس صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ مہنگائی پر قابو پانے کی کوششوں کے درمیان قرضوں کی یہ بڑھتی ہوئی لاگت اقتصادی ترقی کی رفتار کو سست کر سکتی ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان رجحانات کو فوری طور پر کنٹرول نہ کیا گیا تو عالمی منڈیوں میں ایک بڑا مالیاتی بحران جنم لے سکتا ہے، جو ترقی پذیر اور ترقی یافتہ دونوں طرح کی معیشتوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا۔