LIVE
Loading Breaking News...

نیدرلینڈز کا سونے کے ذخائر امریکہ اور کینیڈا سے لندن منتقل کرنے کا فیصلہ

News Image
نیدرلینڈز کے مرکزی بینک نے بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے پیش نظر اپنے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ امریکہ اور کینیڈا سے لندن منتقل کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کسی بھی ممکنہ عالمی بحران کے دوران ملکی اثاثوں کو محفوظ بنانا اور ان تک فوری رسائی کو یقینی بنانا ہے۔
ایسٹرڈیم سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نیدرلینڈز کے مرکزی بینک نے اپنے سونے کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ امریکہ اور کینیڈا سے واپس لے کر برطانوی دارالحکومت لندن منتقل کر دیا ہے۔ ڈچ سنٹرل بینک کی جانب سے اس اہم اقدام کی بڑی وجہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور معاشی غیر یقینی صورتحال بتائی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا بنیادی مقصد کسی بھی ناگہانی عالمی بحران یا ہنگامی صورتحال کے دوران ملکی مالیاتی اثاثوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنا ہے۔ بینک کے ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ انتہائی سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر بدلتے ہوئے سیاسی حالات اور تنازعات کے دوران سونے کے ذخائر پر کنٹرول مزید بہتر بنایا جا سکے۔ واضح رہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک اپنے قیمتی دھاتوں کے ذخائر بیرونی ممالک کے محفوظ خانوں میں رکھتے ہیں تاکہ بین الاقوامی تجارت اور مالیاتی استحکام کو تقویت مل سکے۔ تاہم حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے کئی ممالک اپنے سونے کے ذخائر کو اپنے ملک واپس لانے یا زیادہ محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ نیدرلینڈز کے اس اقدام کو بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی ممالک موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر اپنے مالیاتی تحفظ کو لے کر کتنے حساس ہو چکے ہیں۔ لندن کو دنیا میں سونے کی تجارت کا ایک بہت بڑا مرکز مانا جاتا ہے، جہاں سے ہنگامی حالات میں بھی سونے کے لین دین یا اسے استعمال میں لانے کے عمل کو نسبتاً زیادہ آسان سمجھا جاتا ہے۔ ڈچ سنٹرل بینک نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کا مالیاتی نظام مکمل طور پر مستحکم ہے اور ملک کے پاس اپنے معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری وسائل موجود ہیں۔ یہ منتقلی نہ صرف نیدرلینڈز کی دفاعی و معاشی حکمت عملی کا حصہ ہے بلکہ یہ اس بات کی بھی غماز ہے کہ دنیا بھر کے مرکزی بینک اب روایتی محفوظ مقامات پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں تاکہ کسی بھی عالمی سطح کے ہنگامے سے مؤثر انداز میں نبردآزما ہوا جا سکے۔