World
انڈونیشیا میں سرکاری کھانے سے فوڈ پوائزننگ، 500 طلبہ ہسپتال داخل
انڈونیشیا میں سرکاری طور پر فراہم کردہ کھانا کھانے کے بعد پانچ سو سے زائد طلبہ کو فوڈ پوائزننگ کی شکایت پر ہسپتال داخل کرا دیا گیا۔ طبی حکام کے مطابق تمام متاثرہ بچوں کا علاج جاری ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
انڈونیشیا میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کے دوران سرکاری طور پر فراہم کردہ کھانا کھانے کے بعد پانچ سو سے زائد طلبہ کو فوڈ پوائزننگ کی شکایت پر ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ اس واقعے نے ملک بھر میں سرکاری اسکولوں میں بچوں کو فراہم کیے جانے والے کھانوں کے معیار اور حفاظتی انتظامات پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکام کی جانب سے معاملے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ غفلت کہاں اور کس سطح پر برتی گئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق منگل کے روز اسکول کے اوقات میں بچوں کو حکومت کی طرف سے کھانا فراہم کیا گیا تھا جسے کھانے کے کچھ ہی دیر بعد طلبہ نے پیٹ میں شدید درد، متلی اور چکر آنے کی شکایات شروع کیں۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسکول انتظامیہ اور مقامی والدین نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے تمام متاثرہ بچوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ تمام بچوں کو بروقت اور بہتر طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
طبی عملے کا کہنا ہے کہ زیادہ تر بچوں کی حالت اب خطرے سے باہر ہے اور انہیں ڈاکٹروں کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ محکمہ صحت کے حکام نے کھانے کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری میں تجزیے کے لیے بھیج دیے ہیں تاکہ زہریلے پن کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔ حکومت کی جانب سے اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ غفلت کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔