LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کی کشتیوں پر حملے کی مہم: ایک سال بعد بھی لواحقین انصاف اور جوابات کے منتظر

News Image
ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے شروع کی گئی کشتیوں پر حملوں کی مہم کو ایک سال گزر چکا ہے جس میں منشیات کے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ تاہم، لاپتہ افراد کے لواحقین اور مقامی خاندانوں میں یہ شدید خوف پایا جاتا ہے کہ ان حملوں میں معصوم ماہی گیر بھی مارے گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے منشیات کے سمندری راستوں اور مشکوک کشتیوں کے خلاف شروع کی گئی فوجی مہم کو ایک پورا سال بیت چکا ہے۔ اس تنازعہ اور مہم کے دوران ہونے والی کارروائیوں کے بارے میں اب بھی کئی سوالات اور ابہام برقرار ہیں، جن کا جواب متاثرہ خاندان شدت سے تلاش کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس اور انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کا یہ مؤقف رہا ہے کہ یہ فضائی اور سمندری حملے انتہائی منظم طریقے سے 'نارکو ٹیررسٹ' یعنی منشیات کے دہشت گردوں کے خلاف کیے گئے ہیں تاکہ ملک میں غیر قانونی منشیات کی آمد کو روکا جا سکے۔ حکام کے مطابق اس مہم کے دوران کئی کامیاب کارروائیاں کی گئیں اور بڑے پیمانے پر غیر قانونی سامان ضبط کیا گیا۔ تاہم، اس سرکاری بیانیے کے بالکل برعکس، ان کارروائیوں سے متاثر ہونے والے ماہی گیروں کے خاندانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ جن کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں سے بیشتر عام اور غریب ماہی گیروں کی تھیں جو اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے سمندر میں گئے ہوئے تھے۔ ان خاندانوں کا الزام ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے حملوں کے اہداف کا انتخاب درست نہیں تھا اور اس غفلت کے نتیجے میں سینکڑوں بے گناہ افراد کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ایک سال گزر جانے کے باوجود متاثرہ خاندانوں کو اپنے پیاروں کے بارے میں کوئی واضح معلومات یا تسلی بخش جوابات نہیں مل سکے ہیں، جس سے ان کی بے چینی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ مقامی سطح پر اس صورتحال نے شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے کیونکہ بہت سے گھرانوں کے لیے واحد کفیل یہی ماہی گیر تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کارروائیوں کے دوران کتنے عام شہری نشانہ بنے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں متاثرہ خاندانوں کی جانب سے قانونی چارہ جوئی اور دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ اپنے پیاروں کے غائب ہونے یا ہلاک ہونے کی حقیقت جاننے کے لیے پرعزم ہیں۔ حکومتی سطح پر اس معاملے میں مزید شفافیت لائے بغیر ان سوالات کے ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔