World
تیونس میں صمود فلوٹیلا کے کارکنوں کی گرفتاری اور رہائی کا مطالبہ
برازیلی انسانی حقوق کے کارکن نے تیونس کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے صمود فلوٹیلا کے چاروں منظمین کو فوری رہا کرے۔ یہ تمام افراد گزشتہ مارچ سے تیونس میں حراست میں موجود ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے ایک برازیلی کارکن نے تیونس کی حکومت سے شدید مطالبہ کیا ہے کہ وہ صمود فلوٹیلا کے چار اہم منتظمین کو فوری طور پر رہا کرے۔ صمود فلوٹیلا کا بنیادی مقصد محصورہ غزہ کی پٹی پر عائد غیر انسانی ناکہ بندی کو توڑنا اور وہاں کے عوام تک امداد پہنچانا تھا۔ حراست میں لیے جانے والے یہ افراد گزشتہ کئی ماہ سے تیونس میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ چاروں منظمین رواں سال مارچ کے مہینے سے تیونس میں حراست میں لٹکے ہوئے ہیں۔ ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے غزہ کے مظلوم عوام کی مدد کے لیے ایک پرامن بحری قافلے کا انتظام کیا تھا جو سمندری راستے سے امدادی سامان لے کر جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی کارکنوں کی جانب سے ان کی طویل اور غیر قانونی حراست پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
برازیلی کارکن نے اپنے بیان میں زور دیا کہ فلوٹیلا کے یہ منتظمین کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں تھے بلکہ ان کا ہدف صرف فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور خوراک و ادویات کی فراہمی تھا۔ انہوں نے تیونس کے حکام پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام کریں اور ان بے قصور کارکنوں کو مزید قید رکھنے کے بجائے فوری طور پر آزادی دیں۔
اس معاملے پر دنیا بھر کے سماجی حلقوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی جانب سے تیونس کی حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے فلاحی اور امدادی سرگرمیوں کو نقصان پہنچتا ہے، اس لیے خطے کے تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ انسانی بنیادوں پر اٹھائے جانے والے اقدامات میں رکاوٹ بننے کے بجائے ان کا ساتھ دیں اور زیر حراست افراد کو جلد از جلد رہا کریں۔