Business
اوبر میں بڑے پیمانے پر چھانٹی، 3300 ملازمین نوکری سے فارغ
مقبول رائڈ ہেইলিং کمپنی اوبر نے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے 3300 ملازمین کو برطرف کر دیا ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے بعد کمپنی کی جانب سے یہ اب تک کی سب سے بڑی برطرفی ہے۔
دنیا بھر میں اپنی خدمات فراہم کرنے والی معروف رائڈ ہেইলিং اور ٹیکنالوجی کمپنی اوبر نے اپنے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور اخراجات میں کمی کے لیے بڑے پیمانے پر چھانٹی کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس کی عالمی وبا کے بعد یہ سب سے بڑی چھانٹی ہے جس میں کل 3300 ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد کمپنی کے اندر انتظامی تہوں کو کم کرنا اور ٹیموں کے ڈھانچے کو مزید سادہ بنانا ہے۔
اوبر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) دارا خسروشاہی نے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی کے نظام کو مزید موثر اور لچکدار بنانے کے لیے یہ مشکل فیصلے ناگزیر ہو چکے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتظامی رکاوٹوں کو ختم کرنے اور فیصلہ سازی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ٹیموں کی تشکیل نو کی جا رہی ہے تاکہ کمپنی طویل مدت میں پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن رہ سکے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں حالیہ برسوں کے دوران یہ رجحان دیکھا گیا ہے کہ بڑی کمپنیاں معاشی دباؤ اور مارکیٹ کے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر اپنے افرادی قوت میں کمی کر رہی ہیں۔ اوبر کی جانب سے اٹھائے گئے اس قدم کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ متاثرہ ملازمین کے حوالے سے کمپنی کا کہنا ہے کہ انہیں اس مشکل وقت میں مالی معاونت اور دیگر امدادی پیکیج فراہم کیے جائیں گے۔
مستقبل کے حوالے سے اوبر کا عزم ہے کہ وہ اپنی بنیادی خدمات کو مزید بہتر بنائے گی اور صارفین کے لیے جدید ترین سہولیات متعارف کرواتی رہے گی۔ کمپنی کے اس فیصلے کے بعد کاروباری تجزیہ کار صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس قدم سے عالمی ٹیک مارکیٹ اور لیبر فورس پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔