LIVE
Loading Breaking News...

غزہ کے اعضاء سے محروم نوجوانوں کی مشکلات اور محاصرے کی کہانیاں

News Image
غزہ کے نوجوان جو جنگ میں اپنے اعضاء سے محروم ہو چکے ہیں، مصنوعی اعضاء کی عدم دستیابی اور سفری پابندیوں کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ محاصرے اور تباہ حال بنیادی ڈھانچے نے ان کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے۔
فلسطین کے محاصرہ زدہ علاقے غزہ میں جاری شدید تنازعات کے دوران ہزاروں افراد اپنے اعضاء سے محروم ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے۔ یہ افراد نہ صرف جسمانی معذوری کا شکار ہیں بلکہ علاقے میں جاری سخت محاصرے اور طبی سامان کی قلت کے باعث وہ بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ اسپتالوں کی تباہی اور باہر سےے طبی امداد کی بندش کی وجہ سے انہیں بروقت مصنوعی اعضاء فراہم نہیں کیے جا رہے، جس سے ان کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ نوجوان جو کبھی اپنے خاندان کا سہارا تھے یا اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے محنت کر رہے تھے، اب محدود حرکات اور شدید درد کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ غزہ میں ایمبولینسوں کی کمی، ادویات کی عدم دستیابی اور تباہ شدہ سڑکوں نے ان کی نقل و حرکت کو مزید محدود کر دیا ہے۔ بہت سے نوجوانوں کے لیے بستر سے اٹھنا یا گھر سے باہر نکلنا بھی ایک ناممکن چیلنج بن چکا ہے، جس سے ان کی نفسیاتی حالت پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ کے معذور افراد کی ابتر حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور فوری طور پر طبی امداد، ادویات اور مصنوعی اعضاء کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، زمینی حقائق یہ ہیں کہ سرحدی گزرگاہیں بند ہونے اور جاری کشیدگی کی وجہ سے امدادی سامان کی ترسیل انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ ان کی دادرسی کی جائے تاکہ وہ ایک بار پھر باوقار طریقے سے اپنی زندگی کا از سر نو آغاز کر سکیں۔