World
ساؤدی عرب کی آبِ ہرمز میں ٹینکر پر حملے کی مذمت
ساؤدی عرب نے آبِ ہرمز میں تیل کے ٹینکر پر ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جس کے نتیجے میں فلپائن سے تعلق رکھنے والے دو عملے کے ارکان ہلاک ہو گئے تھے۔ اس علاقائی واقعے پر خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے بھی گہرے رنج و غم اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
ریاض: ساؤدی عرب کی حکومت نے آبِ ہرمز کے قریب تیل کے ایک تجارتی ٹینکر پر ہونے والے مہلک حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں فلپائن سے تعلق رکھنے والے جہاز کے عملے کے دو ارکان ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی سمندری راستوں کی سلامتی اور امن کے حوالے سے یہ واقعہ انتہائی تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، ساؤدی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں اور جہاز رانی کی آزادی کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی کارروائی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ حملے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ریاض نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے اور فلپائنی شہریوں کی ہلاکت کو ایک المناک سانحہ قرار دیا ہے۔
خطے کے دیگر ممالک نے بھی اس حالیہ واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور سمندری تجارت کے تحفظ کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ آبِ ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل کی ترسیل کے راستوں میں شامل ہے، جہاں اس قسم کے حملے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائن کے لیے بڑے خطرات کا باعث بنتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس واقعے کے بعد خطے میں سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے بھی فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ سمندری سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی بڑی علاقائی چپقلش سے بچا جا سکے۔ ساؤدی عرب نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا تاکہ تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو محفوظ بنایا جا سکے۔