World
امریکہ کا نکاراگوا کے خلاف علاقائی فورمز استعمال کرنے کا فیصلہ
امریکہ نے نکاراگوا کی حکومت کی جانب سے نئے آئینی ترامیم کے ذریعے سیاسی حزب اختلاف پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ واشنگٹن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ نکاراگوا کو بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ کرنے کے لیے خطے کے اہم اداروں کا بھرپور استعمال کرے گی۔
واشنگٹن نے نکاراگوا کی حکومت کی جانب سے آئین میں کی جانے والی متنازع ترامیم کے ردعمل میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ملک کو خطے میں تنہا کرنے کے لیے ایک علاقائی باڈی کا استعمال کرے گا۔ یہ قدم نکاراگوا کے قانون سازوں کی جانب سے آئین میں بڑی تبدیلیاں کرنے کے بعد اٹھایا گیا ہے جس کے تحت ملک میں زیادہ تر سیاسی حزب اختلاف کو مؤثر طریقے سے ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں جن پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔
نکاراگوا میں ہونے والی ان آئینی تبدیلیوں کے بعد صدر اور ان کی حکومت کو ملک کے ریاستی اداروں پر مزید مطلق العنان اختیار حاصل ہو گیا ہے جبکہ حزب اختلاف کے تمام دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس سے ملک میں سیاسی آزادیوں کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ علاقائی اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز کے ذریعے نکاراگوا کی حکومت پر کس طرح سفارتی اور معاشی دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ اپنے غیر جمہوری فیصلوں کو واپس لینے پر مجبور ہو۔
مستقبل کی حکمت عملی کے تحت امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ وہ لاطینی امریکہ اور کیریبین کے خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ نکاراگوا کے حکمرانوں کو ان کے عوام کے بنیادی حقوق سلب کرنے پر جوابدہ بنایا جا سکے۔ اس ضمن میں علاقائی تنظیموں کے اجلاسوں میں اس معاملے کو سرفہرست رکھا جائے گا اور نکاراگوا کی موجودہ انتظامیہ پر سفارتی تنہائی کے بادل مزید گہرے کیے جائیں گے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس نئی امریکی حکمت عملی سے وسطی امریکہ میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جس کے خطے پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔