LIVE
Loading Breaking News...

سوئس ریو حملہ: پولیس کی تحقیقات میں حملہ آور کے اکیلے ہونے کی تصدیق

News Image
سوئس پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ریو پارٹی میں ہونے والے مہلک فائرنگ کے واقعے میں کوئی دوسرا شخص ملوث نہیں تھا۔ اس اندوہناک واقعے میں ایک بائیس سالہ اطالوی خاتون جاں بحق ہو گئی تھیں۔
سوئٹزرلینڈ میں ایک ریو پارٹی کے دوران پیش آنے والے ہلاکت خیز فائرنگ کے واقعے کی تفتیش کرنے والے حکام نے واضح کیا ہے کہ اس حملے کا ذمہ دار کوئی گروہ یا متعدد افراد نہیں بلکہ ایک تنہا شخص تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران ایسے کوئی شواہد یا اشارے نہیں ملے ہیں جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ مرکزی حملہ آور کے ساتھ اس گھناؤنے فعل میں کوئی اور ساتھی بھی شامل تھا۔ یہ افسوسناک واقعہ ایک ریو میوزک پارٹی کے دوران پیش آیا تھا جہاں فائرنگ کے نتیجے میں ایک بائیس سالہ اطالوی خاتون ہلاک ہو گئی تھیں۔ اس سانحے نے مقامی حلقوں سمیت بین الاقوامی سطح پر بھی گہرے صدمے اور تشویش کی لہر دوڑا دی تھی۔ واقعے کے فوراً بعد سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور تمام زاویوں سے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ پولیس حکام نے فرانزک شواہد، جائے وقوعہ کے تجزیے اور عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ حملہ آور نے یہ کارروائی بالکل اکیلے ہی سرانجام دی تھی۔ حکام کی جانب سے اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ فی الحال عام شہریوں کے لیے کسی بڑے خطرے یا کسی وسیع تر سازش کے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔ تاہم، واقعے کی مکمل تفصیلات اور محرکات جاننے کے لیے تفتیشی عمل تاحال جاری ہے تاکہ اس دلخراش واقعے کے پس پردہ محرکات کو مکمل طور پر بے نقاب کیا جا سکے اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔