Sports
اوبیمیانگ کا گبون قومی ٹیم چھوڑنے کا اعلان، ناخوشگوار رویے کا شکوہ
سابق آرسنل اسسٹرائیکر پیئر ایمرک اوبیمیانگ نے افریقہ کپ آف نیشنز 2025 کے دوران مبینہ طور پر تذلیل آمیز رویے کا شکار ہونے کے بعد گبون کی قومی ٹیم سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ کپتان کی حیثیت سے ٹیم کی قیادت کرنے والے اوبیمیانگ کے اس اچانک فیصلے سے فٹ بال کی دنیا میں ہلچل مچ گئی ہے۔
فٹ بال کی دنیا سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے جہاں سابق آرسنل اور نامور اسٹرائیکر پیئر ایمرک اوبیمیانگ نے گبون کی قومی فٹ بال ٹیم سے ہمیشہ کے لیے کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کی بنیادی وجہ افریقہ کپ آف نیشنز 2025 کے دوران ٹیم اور انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر نامناسب اور تذلیل آمیز رویہ بتایا گیا ہے۔ اوبیمیانگ، جو طویل عرصے سے گبون کی ٹیم کی قیادت کر رہے تھے، نے اس صورتحال پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ٹورنامنٹ کی تیاریوں اور انتظامات کے دوران کھلاڑیوں کے ساتھ جس قسم کا برتاؤ کیا گیا، اس سے اوبیمیانگ جیسے تجربہ کار اور بین الاقوامی شہرت یافتہ کھلاڑی کی دل آزاری ہوئی۔ ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے انہوں نے امید کی تھی کہ انہیں اور ان کے ساتھی کھلاڑیوں کو پروفیشنل ماحول فراہم کیا جائے گا، لیکن ایسا نہ ہونے پر انہوں نے قومی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کو ہی بہتر سمجھا۔ اس اقدام سے گبون کی فٹ بال فیڈریشن کو ایک بڑا دھکا لگا ہے کیونکہ ٹیم کو آئندہ کے اہم مقابلوں میں اپنے سب سے بڑے اور تجربہ کار کھلاڑی کی خدمات سے محروم ہونا پڑے گا۔
پیئر ایمرک اوبیمیانگ کا شمار افریقی فٹ بال کے صف اول کے کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے یورپ کے بڑے کلبوں جیسے کہ آرسنل، بارسلোনা اور چেলسی کی نمائندگی کرتے ہوئے دنیا بھر میں نام کمانا۔ اپنے ملک گبون کے لیے انہوں نے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر خدمات انجام دیں اور مداحوں میں انتہائی مقبول رہے۔ تاہم، قومی ٹیم کے کیمپ میں پیش آنے والے حالیہ ناخوشگوار واقعات نے انہیں اس قدر مایوس کیا کہ انہوں نے قومی جرسی کو خیرباد کہنے کا کٹھن فیصلہ کر ڈالا۔ گبون کے فٹ بال حلقوں میں اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور فیڈریشن سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے۔
اس تمام صورتحال کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ گبون کی فٹ بال ایسوسی ایشن اس بحران سے نمٹنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے اور آیا اوبیمیانگ اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرتے ہیں یا نہیں۔ فی الحال، شائقینِ فٹ بال اور کھیلوں کے تبصرہ نگار اس پیشرفت کو افریقی فٹ بال کے لیے ایک المناک لمحہ قرار دے رہے ہیں، جہاں ایک لیجنڈ کھلاڑی کو نامناسب انتظامی رویے کی وجہ سے قومی ٹیم چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔