Pakistan
وزیراعظم شہباز شریف کا پمز اسپتال آتشزدگی پر سخت اقدامات کا حکم
وزیراعظم شہباز شریف نے پمز اسپتال کی گائنی وارڈ میں لگنے والی آتشزدگی کے واقعے پر منعقدہ ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مجرمانہ غفلت کے مرتکب افسران کو کسی بھی قسم کی رعایت نہ دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اجلاس میں انکوائری رپورٹ کی روشنی میں کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور اسپتال کے نظام کو بہتر بنانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
اسلام آباد میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر کے نرسری وارڈ میں لگنے والی ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ فرائض میں غفلت برتنے والے افسران کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ معصوم بچوں کی جانوں سے کھیلنے والے مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کو کٹہرے میں لایا جائے گا اور قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اجلاس میں وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی جہاں وزیراعظم کو واقعے کی تحقیقات اور عبوری انکوائری رپورٹ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
گزشتہ ہفتے پمز اسپتال کے نرسری وارڈ میں پیش آنے والے اس دلخراش واقعے میں چودہ معصوم بچے جاں بحق ہو گئے تھے، جس پر ملک بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں قانون سازوں کی جانب سے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کڑے احتساب کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے وزیراعظم نے پہلے ہی آٹھ ذمہ دار افسران کو معطل کرنے اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔ معطل ہونے والوں میں پمز کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور دیگر اعلیٰ طبی و انتظامی عملہ شامل ہے۔ تاہم پارلیمانی کمیٹیوں کے حالیہ اجلاسوں میں تفتیش کے بعض پہلوؤں بالخصوص سی سی ٹی وی فوٹیج اور بچوں کی اصل تعداد کے تنازع پر سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر صحت اور سیکرٹری صحت کو ہدایت کی کہ وہ باری باری کے دنوں میں ذاتی طور پر پمز اسپتال کا دورہ کریں اور وہاں بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی خود نگرانی کریں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسپتال میں طبی سہولیات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جائے اور حفاظتی انتظامات کو فول پروف کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کرے گی اور غفلت کے کسی بھی عنصر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 26 اگست کو پیش آنے والے اس سانحے کے بعد اسپتال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی اور آکسیجن پوائنٹس کی موجودگی کی وجہ سے تیزی سے پھیل گئی تھی۔ واقعے کے بعد سے ملک بھر میں اسپتالوں کے حفاظتی نظام اور انتظامی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اور حکومت پر مسلسل دباؤ ہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرے اور صحت کے اداروں کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں لائے۔