Business
پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، نئی قیمتیں جاری
وفاقی حکومت نے عالمی مارکیٹ کے حالات کے پیش نظر پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق جمعرات تین ستمبر سے کر دیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کرتے ہوئے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں دو روپے انچاس پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے گیارہ پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد ملک بھر میں پٹرول کی نئی پرچون قیمت تین سو چھیاسی روپے سولہ پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت تین سو بہتر روپے تین پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ نئی قیمتیں جمعرات کے روز سے نافذ العمل ہیں۔ اس دوران حکومت کی جانب سے پٹرول پر ایک سو چودھواں روپے اور ڈیزل پر ایک سو روپے فی لیٹر کے حساب سے ٹیکس اور ڈیوٹیز عائد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔ یاد رہے کہ عالمی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے اہم فیصلے کیے ہیں۔ پٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے باعث قیمتوں کا تعین اب روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس سے قبل حکومت مارچ کے اوائل سے ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتوں میں ردوبدل کر رہی تھی تاکہ تیل کی ممکنہ سپلائی میں تعطل سے نمٹا جا سکے اور ایندھن کی بچت کو یقینی بنایا جا سکے۔ پٹرول کا استعمال بنیادی طور پر ذاتی سواریوں، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں ردوبدل براہ راست متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے شہریوں کو متاثر کرتا ہے۔ دوسری جانب ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی بھی بڑے پیمانے پر اثرات مرتب کرتی ہے کیونکہ یہ ہیوی ٹرانسپورٹ سیکٹر، پاور پلانٹس اور بڑے جنریٹرز میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل ملکی معیشت میں سب سے بڑے زرمبادلہ اور ریونیو کمانے والے شعبے مانے جاتے ہیں جن کی ماہانہ فروخت سات لاکھ سے آٹھ لاکھ ٹن کے درمیان ہوتی ہے۔