LIVE
Loading Breaking News...

ہسپانیہ سیوطہ تارکین وطن بحران، شینگن معاہدہ معطل اور یورپی ردعمل

News Image
ہسپانیہ کے شمالی افریقی انکلیو سیوطہ میں ہزاروں تارکین وطن کے داخل ہونے کے بعد پورے یورپ میں سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔ اٹلی نے ہسپانیہ کے ساتھ شینگن معاہدہ معطل کر دیا ہے جبکہ ہسپانوی وزیراعظم نے اس بحران کا ذمہ دار انسانی اسمگلروں کو ٹھہرایا ہے۔
ہسپانیہ کے شمالی افریقہ میں واقع نیم خودمختار علاقے سیوطہ میں تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد کے یکدم داخل ہونے کے بعد پورے یورپ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق تقریبا ساٹھ ہزار تارکین وطن کی مراکش سے سیوطہ آمد کے بعد ہسپانوی حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر فوج کو تعینات کر دیا ہے۔ اس واقعے نے یورپی یونین کی سرحدوں کی سکیورٹی اور امیگریشن پالیسیوں پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ہسپانوی وزیراعظم نے اس اچانک اور بے قابو لہر کا ذمہ دار انسانی اسمگلروں کو قرار دیا ہے جو معصوم افراد کو خطرناک راستوں سے ہسپانیہ لانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری جانب اس بحران کے گہرے اثرات یورپی اتحاد کے دیگر ممالک تک بھی پہنچ چکے ہیں، جہاں سرحدی کنٹرول کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ تازہ ترین پیش رفت کے مطابق اٹلی نے ہسپانیہ کے ساتھ شینگن معاہدے کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنا اور یورپی سرحدوں کی کڑی نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بحران یورپی یونین کے لیے تارکین وطن کے انتظام سے متعلق طویل المدتی حکمت عملی پر نظرثانی کا ایک بڑا تقاضا بن گیا ہے، بصورت دیگر یونین کے اندرونی آزادانہ سفر کا نظام شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس انسانی المیے اور سرحدی سکیورٹی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے مراکش اور دیگر افریقی ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ اقدامات کرنا ناگزیر ہو چکا ہے، تاکہ مستقبل میں اس قسم کے بڑے پیمانے پر سرحدی دھاووں کو روکا جا سکے۔