World
اسرائیل غزہ کی آبادی کو منتقل کرنے کا خواہاں، وزیر دفاع کا بیان
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے فلسطینیوں کو خطے سے باہر منتقل کرنے کے منصوبے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کے لیے امریکہ کی منظوری اور دوسری ریاستوں کی طرف سے فلسطینیوں کو قبول کرنے کی ضرورت ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کے پاس فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی سے نکالنے کے منصوبے مکمل طور پر تیار ہیں، تاہم اس پر عمل درآمد کے لیے امریکہ کی طرف سے گرین سگنل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جبری یا رضاکارانہ ہجرت کے بغیر غزہ کا کوئی حقیقی اور پائیدار حل ممکن نہیں ہے۔ اسرائیلی حکومت فضائی، سمری اور دیگر تمام ممکنہ ذرائع سے فلسطینیوں کو باہر نکالنے کے لیے پوری طرح منظم اور تیار ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس نوعیت کے اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرم نے اپنی دوسری مدت صدارت کے آغاز میں غزہ کے تمام بیس لاکھ فلسطینیوں کو وہاں سے ہٹانے کا نظریہ پیش کیا تھا، جسے عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی صدر نے اس تباہ حال ساحلی علاقے کو ایک پرتعیش تفریحی مقام میں تبدیل کرنے کی تجویز دی تھی، جسے بعد میں مصر اور دیگر عرب ممالک کے شدید ردعمل کے باعث کچھ عرصے کے لیے پس منظر میں ڈال دیا گیا۔ فلسطینیوں کے لیے اپنی زمین سے جبری انخلا کی ہر کوشش ان کی تاریخی 'نقبہ' کی یاد تازہ کرتی ہے جو انہوں نے 1948 میں اسرائیل کے قیام کے وقت دیکھی تھی۔ تاہم اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا بلکہ اسے فی الحال 'منجمد' کیا گیا ہے اور اس پر مسلسل بات چیت جاری ہے۔
اسرائیل کاٹز نے مزید وضاحت کی کہ اس منصوبے کے آگے بڑھنے کا دار و مدار مکمل طور پر واشنگٹن پر ہے۔ جب تک امریکہ اس کی منظوری نہیں دیتا اور فلسطینیوں کو پناہ دینے کے لیے کسی دوسرے ملک کا تعین نہیں ہو جاتا، اس وقت تک یہ قدم اٹھانا ممکن نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ غزہ کی اسی فیصد آبادی خود وہاں سے جانا چاہتی ہے لیکن حماس انہیں اس سے روک رہی ہے۔ واضح رہے کہ جنگی حالات اور عالمی قوانین کے تحت مقبوضہ علاقے میں شہریوں کی جبری نقل مکانی کو جنیوا کنونشنز کے تحت جنگی جرم قرار دیا جاتا ہے، جبکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت اس سے قبل اسرائیلی قیادت کے خلاف وارنٹ بھی جاری کر چکی ہے۔ غزہ میں جاری شدید اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں پہلے ہی لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں اور جانی نقصان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔