LIVE
Loading Breaking News...

بھارت: چلتی بس میں 16 سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی پر انسانی حقوق کمیشن متحرک

News Image
بھارت کے قومی انسانی حقوق کمیشن نے گریٹر نوئیڈا میں چلتی بس میں نابالغ لڑکی سے اجتماعی زیادتی کے واقعے کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔ کمیشن نے دہلی اور گوتم بدھ نگر کے پولیس کمشنرز سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرکے دو ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔
بھارت کے قومی انسانی حقوق کمیشن (NHRC) نے دہلی کے قریب نوئیڈا میں ایک سولہ سالہ لڑکی کے ساتھ چلتی بس میں پیش آنے والے مبینہ اجتماعی زیادتی کے ہولناک واقعے کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس پر از خود کارروائی کرتے ہوئے کمیشن نے اس واقعے کو انسانی حقوق کی سنگین پامالی قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ لرزہ خیز واقعہ رواں سال 4 اگست کو پیش آیا تھا جب متاثرہ نابالغ لڑکی نے گریٹر نوئیڈا میں سفر کے دوران ایک پرائیویٹ بس کا رُخ کیا تھا۔ واقعے کی تفصیلات کے مطابق متاثرہ لڑکی اپنے گھر سے کسی کو بتائے بغیر نکلی تھی اور اسے نوئیڈا سیکٹر 63 جانا تھا جہاں اس کا قریبی رشتہ دار رہتا ہے۔ طوفانی بارش اور اندھیرے کی وجہ سے وہ غلطی سے گریٹر نوئیڈا کے پری چوک پر اتر گئی۔ جب اسے معلوم ہوا کہ وہ اپنی منزل سے ابھی بھی پچیس کلومیٹر دور ہے تو اس نے دوسری سواری کی تلاش شروع کر دی۔ اسی دوران ایک پرائیویٹ بس وہاں رکی اور بس کے عملے نے اسے جھانسہ دیا کہ وہ سیکٹر 63 کی طرف جا رہے ہیں اور اسے وہاں چھوڑ دیں گے۔ لڑکی ان کی باتوں میں آ کر بس میں سوار ہو گئی۔ پولیس تحقیقات کے مطابق وہ بس اس روز معمول کی مسافر سروس پر نہیں تھی بلکہ اسے تکنیکی خرابی کے باعث گریٹر نوئیڈا کے ایک ورکشاپ میں مرمت کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔ بس میں سوار ہونے کے بعد ڈرائیور کلدیپ اور کنڈیکٹر سندیپ نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا ارتکاب کیا۔ ملزمان نے جرم کے بعد لڑکی کو دہلی کے کشمیری گیٹ کے قریب سڑک پر چھوڑ دیا، جہاں سے وہ کسی طرح رکشہ لے کر قریبی پولیس اسٹیشن پہنچی اور پولیس کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔ واقعہ سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے دہلی اور گوتم بدھ نگر کے پولیس کمشنرز کے ساتھ ساتھ مین پوری کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو بھی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ دو ہفتوں کے اندر اندر اس بھیانک واقعے پر ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ اس رپورٹ میں مقدمے کی تازہ ترین تفتیشی صورتحال اور اگر متاثرہ لڑکی کو کوئی معاوضہ دیا گیا ہے تو اس کی تفصیلات بھی شامل کرنے کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ خواتین کے تحفظ کے حوالے سے انتظامیہ کو مزید سخت اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے دردناک جرائم کا تدارک ممکن بنایا جا سکے اور متاثرہ خاندان کو بروقت انصاف فراہم کیا جا سکے۔