LIVE
Loading Breaking News...

پی سی بی کا ہنگامی فیصلہ، کوچز اور سات کھلاڑی ڈراپ

News Image
انگلینڈ کے ہاتھوں مسلسل شکستوں کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور فاسٹ بولنگ کوچ عمر گل سمیت سات کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے فارغ کر دیا۔ پی سی بی کے اس اچانک اور بڑے فیصلے پر کرکٹ حلقوں میں شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
انگلینڈ کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز میں مسلسل شکستوں کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک انتہائی اور ہنگامی قدم اٹھاتے ہوئے ٹیم میں بڑا اور اچانک اکھاڑ پچھاڑ کر دیا ہے۔ لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں 194 رنز کی بھاری شکست کے بعد سیریز انگلینڈ کے نام ہو چکی ہے، جس کے بعد پی سی بی نے شدید تنقید کی زد میں آ کر یہ فیصلے کیے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کرکٹ حکام نے گھبراہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ فیصلے کیے ہیں جو ٹیم کے طویل المدتی مفاد میں نہیں ہیں۔ سیریز کے تیسرے اور آخری میچ سے قبل ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور فاسٹ بولنگ کوچ عمر گل کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر وطن واپس بھیج دیا گیا ہے جبکہ ان کے ساتھ سات کھلاڑیوں کو بھی اسکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کو حالیہ عرصے میں ٹیسٹ کرکٹ میں شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ ٹیم اپنے آخری چھ میں سے پانچ ٹیسٹ میچ ہار چکی ہے اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نیچے آخری نمبر پر موجود ہے۔ انگلینڈ کے خلاف جاری اس سیریز میں پاکستانی بلے باز ایک بار بھی اننگز میں 200 رنز کا ہندسہ عبور کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ کپتان بابر اعظم جو انجری کے باعث پہلا میچ نہیں کھیل سکے تھے، واپسی کے باوجود ٹیم کو فتح کی راہ پر گامزن کرنے میں ناکام رہے۔ بابر کے علاوہ جن سات کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے نکالا گیا ہے ان میں تجربہ کار وکٹ کیپر محمد رضوان، اوپنر امام الحق، سلمان آغا، اسپنر علی Usman، فاسٹ بولر خرم شہزاد، آل راؤنڈر عامر جمال اور بیٹر محمد اویس ظفر شامل ہیں۔ سرفراز احمد کی جگہ اب وائٹ بال کوچ مائیک ہیسن کو ذمہ داری سونپی گئی ہے جبکہ ایشلے نوفکے کو بولنگ کوچ مقرر کیا گیا ہے۔ پی سی بی کی جانب سے اس ہنگامی تبدیلی کے بعد سلیکٹرز نے کئی نئے اور نوجوان کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں شامل کیا ہے جن میں صائم ایوب، عبداللہ فضل، اسپنر عرفات منہاس اور چند ایسے کھلاڑی بھی شامل ہیں جنہیں اب تک کسی بھی فارمیٹ میں بین الاقوامی ڈیبیو کا موقع نہیں ملا۔ سابق کرکٹرز نے پی سی بی کے اس اچانک فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے اور بورڈ پر زور دیا ہے کہ مستقل مزاجی کے بغیر صرف چہروں کی تبدیلی سے طویل مدت میں کوئی بہتری نہیں آ سکتی۔