LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان افغان تعلقات اور پالیسی کی ناکامی پر تجزیہ

News Image
افغانستان اور پاکستان کے تعلقات تاریخی غلطیوں، بیرونی مداخلت اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے ایک پیچیدہ المیہ بن چکے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کو اپنی افغان پالیسی میں بنیادی تبدیلی لانے کی اشد ضرورت ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی تاریخ ہمیشہ سے پیچیدہ اور چیلنجوں سے بھرپور رہی ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں، خواہ کابل میں کسی کی بھی حکومت رہی ہو، افغانستان پاکستان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنا رہا ہے۔ بدقسمتی سے اسلام آباد کی روایتی پالیسیوں نے اس مسئلے کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھا دیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے افغان پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی لائی جائے، جس کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ماضی میں کہاں اور کیا غلطیاں سرزد ہوئیں۔ افغانستان کے اندرونی تنازعات اور اس کی جغرافیائی پوزیشن نے ہمیشہ بیرونی طاقتوں کو مداخلت کی دعوت دی ہے، جس کے اثرات اس خطے پر گہرے مرتب ہوئے ہیں۔ سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کی جارحیت اور بعد میں امریکہ کی جنگوں نے دونوں ممالک کو انتہا پسندانہ نظریات اور جہادی لہروں کا مرکز بنا دیا۔ امریکہ نے اپنی روایتی عسکریت پسندی کے تحت بغیر کسی واضح حکمت عملی کے افغانستان میں جنگیں شروع کیں، جن کا انجام ناکامی کی صورت میں نکلا۔ دوسری طرف افغان عوام بھی ایک بدعنوان حکمران طبقے اور بعد میں طالبان کے عروج کا شکار بنے۔ سابق افغان صدور حامد کرزئی اور اشرف غنی نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے امریکہ اور بھارت کا سہارا لیا، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے۔ ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہ کرنے اور دیگر سرحدی تنازعات نے اس کشیدگی میں مزید اضافہ کیا، جس سے دونوں اطراف کے عوام نے بہت نقصان اٹھایا۔ پاکستان کے لیے افغانستان بنیادی طور پر ایک سیاسی چیلنج ہے نہ کہ محض عسکری مسئلہ۔ پاکستان کے اندر موجود دہشت گردی کے چیلنجز اور طالبان کے ساتھ پرانے روابط نے ایک ایسا ریورس لیوریج پیدا کیا ہے جس سے نمٹنے کے لیے سیاسی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ افغانستان کو صرف سیکیورٹی کے زاویے سے دیکھنا ایک بڑی غلطی ثابت ہوئی ہے، اور طالبان کی حمایت یا اندھی مخالفت دونوں کی پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں۔ پاک افغان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے تجارت، مہاجرین، بارڈر کنٹرول اور چین کے ساتھ قریبی رابطوں پر مشتمل ایک جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ مستقبل میں پاکستان کو کسی بھی ایسی امریکی جنگ کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہیے جو اس خطے میں مزید تباہی کا باعث بنے۔ کسی بھی بیرونی امداد یا دباؤ کے تحت افغانستان میں پراکسیز کی حمایت سے بچنا ہوگا اور تمام مسائل کا حل باہمی سفارت کاری اور سیاسی افہام و تفہیم کے ذریعے تلاش کرنا ہوگا۔ دونوں ممالک کا مستقبل ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے حقیقت پسندانہ اقدامات ناگزیر ہیں۔