World
نیپال سیلاب: لاپتہ افراد کے لیے علامتی آخری رسومات اور امدادی کارروائیاں
نیپال میں حالیہ تباہ کن گلیشیر پھٹنے اور سیلاب کے بعد لاپتہ افراد کے لواحقین نے ان کی روح کی آزادی کے لیے علامتی آخری رسومات ادا کی ہیں۔ اس المناک آفت میں اب تک گیارہ سو سے زائد لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں جبکہ ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
نیپال میں حالیہ تباہ کن فلیش فلڈ اور گلیشیر کے بیٹھنے سے آنے والے خوفناک ریلے کے ایک ہفتے بعد، لواحقین نے اپنے لاپتہ پیاروں کی روح کی تسکین کے لیے بدھ کے روز علامتی آخری رسومات ادا کیں۔ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں ہماچل کے علاقے میں گھر اور بستیاں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، جس کے بعد غمزدہ خاندانوں نے امید چھوڑ کر ہندو روایات کے مطابق تنکے کے پتلے جلا کر آخری رسومات ادا کیں۔ لواحقین کا کہنا تھا کہ انہیں یہ قدم اس لیے اٹھانا پڑا تاکہ ان کے پیاروں کی روح کو سکون مل سکے اور وہ جہاں کہیں بھی ہوں آزاد اور خوش رہیں۔ امدادی ٹیمیں اب تک گیارہ سو سے زائد لاشیں برآمد کر چکی ہیں جبکہ تقریباً ساڑھے چار ہزار افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ہنگامی ٹیمیں پشپھاتناتھ مندر اور دیگر مقامات پر لواحقین کے ساتھ غم بانٹ رہی ہیں جبکہ لاشیں زیادہ ہونے کی وجہ سے شناخت کے بعد اجتماعی تدفین بھی کی جا رہی ہیں۔ ہنگامی ٹیمیں ہائیڈرو پاور پلانٹس کی سرنگوں اور ملبے کے نیچے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ہیوی مشینری کا استعمال کر رہی ہیں، لیکن کیچڑ اور ملبے کی موٹی تہوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ نیپالی حکومت اور وزیر خارجہ نے اب بھی معجزے کی امید ظاہر کی ہے کہ شاید کچھ لاپتہ افراد اب بھی زندہ ہوں، تاہم تباہی کا حجم اتنا بڑا ہے کہ اس کی بازگشت عالمی سطح پر سنائی دے رہی ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلے میں عالمی حرارت کی وجہ سے گلیشیر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے اس خطے کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ نیپال جیسے ممالک جن کا عالمی آلودگی میں حصہ انتہائی کم ہے، اس کے باوجود وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بدترین اثرات جھیل رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس سانحے کو ایک سنگین انتباہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی عالمی سطح کا مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے دنیا کو مشترکہ ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔ دوسری جانب، نیپال میں بحالی کے کاموں کے لیے اربوں ڈالرز درکار ہیں جبکہ مردہ خانوں میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے لاوارث اور شناخت نہ ہونے والی لاشوں کے ڈی این اے سیمپل لے کر ان کی تدفین کی جا رہی ہے۔ اس آفت میں خطے کے مختلف ممالک کے سیاح اور ہندو یاتری بھی متاثر ہوئے ہیں، اور بھارت تک میں ندیوں سے لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔