Pakistan
کراچی کے ساحل پر اسٹنگ رے مچھلی کا شکار اور سمندری حیات کو خطرہ
کراچی کے ساحل پر مقامی طور پر 'پٹن' کہلانے والی اسٹنگ رے مچھلی کا بڑے پیمانے پر شکار کیا جا رہا ہے۔ سمندری امور کے ماہرین نے اس تیزی سے جاری شکار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے سمندری حیات کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
کراچی کے ساحلی علاقوں میں سمندری حیات کے لیے ایک نیا بحران سر اٹھا رہا ہے جہاں مقامی طور پر 'پٹن' کے نام سے جانی جانے والی اسٹنگ رے مچھلی کا بڑے پیمانے پر شکار کیا جا رہا ہے۔ اس جاری غیر معمولی شکار کی وجہ سے ماحولیاتی ماہرین اور سمندری حیات پر نظر رکھنے والے اداروں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس بے دریغ شکار کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو اس سے نہ صرف اسٹنگ رے کی آبادی میں نمایاں کمی واقع ہوگی بلکہ پورے ساحلی ماحولیاتی نظام پر اس کے منفی اور دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔
اسٹنگ رے مچھلی جو اپنی چپٹی جسمانی ساخت اور منفرد خصوصیات کی وجہ سے جانی جاتی ہے، کراچی کے ماہی گیروں کے لیے ایک عرصے سے مختلف مقاصد کے لیے ہدف بنتی رہی ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں اس کے بڑے پیمانے پر پکڑے جانے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس مچھلی کی مانگ اور تجارتی مقاصد کے تحت اس کا مسلسل شکار اس کی بقا کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ سمندری ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں۔
ماحولیاتی ماہرین نے زور دیا ہے کہ حکومت اور ماہی گیری کے محکمے کو چاہیے کہ وہ ساحلی علاقوں میں مچھلیوں کے شکار کے حوالے سے سخت ضابطے نافذ کریں اور غیر قانونی شکار پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ اس کے علاوہ، مقامی ماہی گیروں میں اس بات کی آگاہی پھیلانا بھی انتہائی ضروری ہے کہ بعض مخصوص سمندری جانداروں کا بے دریغ شکار سمندری توازن کو کیسے بگاڑ سکتا ہے۔ اگر وقت پر موثر حکمت عملی تیار نہ کی گئی تو کراچی کے ساحلوں سے یہ قیمتی اور منفرد سمندری مخلوق ہمیشہ کے لیے غائب ہو سکتی ہے۔