World
ایران کا شادی کی تقریب پر امریکی حملے کو جنگی جرم قرار دینے کا اعلان
ایران نے شادی کی تقریب میں ہونے والی ہلاکتوں کو جنگی جرم قرار دیا ہے جبکہ امریکہ نے عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
تہران: ایران نے سریک کے مقام پر ایک شادی کی تقریب پر ہونے والے ہلاکت خیز امریکی حملے کو باضابطہ طور پر جنگی جرم قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس بزدلانہ کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور خطے میں عسکری سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ دوسری جانب، واشنگٹن نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی افواج نے کسی بھی شہری آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں اور عسکری اہداف کو مدنظر رکھ کر کی گئی تھیں۔ اس واقعے کے بعد تہران کی طرف سے جوابی کارروائی بھی کی گئی ہے، جس میں اردن میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کی جانب سے سخت بیانات اور حملوں کے تبادلے سے خطے میں حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں۔ امریکی صدر کی طرف سے سخت تنبیہ کے باوجود ایران کا جوابی اقدامات جاری رکھنا اس بات کا غماز ہے کہ تنازع آسانی سے تھمنے والا نہیں ہے۔ لارک جزیرے پر ہونے والے سابقہ امریکی حملوں اور اس کے بعد کے ردعمل نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور مبصرین نے اس تازہ کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فریقین نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو مشرق وسطیٰ ایک بار پھر بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دیا جا رہا ہے، تاہم زمینی حقائق انتہائی نازک بنے ہوئے ہیں۔