LIVE
Loading Breaking News...

خاتم الانبیاء کا خطے کے ممالک کو انتباہ اور ایران امریکہ کشیدگی

News Image
ایران کے عسکری مرکز خاتم الانبیاء نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں ہرگز مدد نہ کریں۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی جارحیت کے جواب میں حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک واشنگٹن اپنے جرائم پر نادم نہیں ہوتا۔
تہران: ایرانی عسکری مرکز خاتم الانبیاء نے خطے کے تمام ممالک کو انتہائی سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے علاقے یا فضائی حدود کو امریکہ یا اس کی اتحادی افواج کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ ایران کی جانب سے یہ تنبیہ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان شدید ترین جھڑپیں ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔ ایرانی حکام کا دوٹوک مؤقف ہے کہ اگر کسی بھی پڑوسی ملک نے امریکہ کو ایران کے خلاف فضائی یا عسکری معاونت فراہم کی تو اسے اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ تہران کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف حملے اس وقت تک جاری رکھے جائیں گے جب تک وہ اپنی جارحیت بند نہیں کرتے اور اپنے کیے پر پشیمان نہیں ہوتے۔ حالیہ دنوں میں خطے میں ہونے والے فضائی حملوں اور کشیدگی کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔ ایرانی عسکری قیادت کا ماننا ہے کہ خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے غیر ملکی بالخصوص امریکی مداخلت کا خاتم کرنا ناگزیر ہے، اور تہران اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر، بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ جنگ کے پھیلاؤ سے پورے خطے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق، ایران کی نئی اسٹریٹجی اور سخت بیانات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ تہران امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں خطے کی سیاسی و عسکری حرکیات پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ یہ تنازعہ کس رخ پر موڑ لیتا ہے۔