LIVE
Loading Breaking News...

مصر ڈرون حملے کے بعد ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات پر حملے

News Image
مصر میں ہونے والے ڈرون حملے کے بعد خطے میں کشیدگی انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جس کے نتیجے میں ایران نے کویت اور بحرین میں موجود اسٹریٹجک امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے ردعمل میں امریکی فوج نے بھی ایران کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے شدید حملے شروع کر دیے ہیں۔
مصر میں پیش آنے والے ڈرون حملے کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر انتہائی تشویشناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران نے کویت اور بحرین میں واقع اہم اور اسٹریٹجک امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ کارروائی خطے میں جاری کشیدگی کی حالیہ لہر کا حصہ ہے جس نے عالمی برادری کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ حملے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں پہلے ہی سے فریقین کے درمیان لفظی جنگ اور عسکری محاذ آرائی عروج پر تھی۔ امریکی فوج کی جانب سے بھی اس صورتحال پر سخت ردعمل ظاہر کیا گیا ہے اور امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے اہداف پر حملے کے بعد جوابی کارروائی کے طور پر ایران پر بھاری میزائل حملے کیے گئے ہیں۔ امریکی عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں اور اثاثوں کا دفاع کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا اور لائیو اپ ڈیٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست محاذ آرائی کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے، جس سے خلیجی ممالک میں بھی سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں۔ اس دوران خطے کے دیگر ممالک اور عالمی طاقتیں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ صورتحال کو مزید بگاڑ سے بچایا جا سکے اور جنگ کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر فریقین نے سفارتی سطح پر معاملات کو حل کرنے کی کوشش نہ کی تو اس کے اثرات پوری عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی کے راستوں پر پڑ سکتے ہیں، جس سے دنیا بھر میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔