Business
امریکہ میں اسٹاک انڈیکس فیوچرز پر ایران کشیدگی اور تیل کی قیمتوں کے اثرات
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے ساتھ تناؤ کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اور ٹریژری ییلڈز اوپر چلے گئے ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے امریکی اسٹاک انڈیکس کے فیوچرز میں احتیاطی رجحان دیکھا جا رہا ہے اور سرمایہ کار محتاط حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔
امریکہ میں اسٹاک انڈیکس کے فیوچرز جمعرات کے روز دباؤ کا شکار نظر آئے، جس کی بنیادی وجہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں نیز ٹریژری ییلڈز میں ہونے والا اضافہ ہے۔ مارکیٹ کے مبصرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی خدات کے باعث سرمایہ کاروں میں بے یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے، جس نے عالمی مالیاتی منڈیوں کے رجحانات کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ تجارتی سرگرمیوں میں ملا جلا رجحان دیکھا جا رہا ہے کیونکہ خطے میں کسی بھی ممکنہ بڑے تنازع سے تیل کی رس رسد شدید متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کے نرخوں میں ایک فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور تیل کی قیمتیں پچانوے ڈالر فی بیرل کے قریب منڈلا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ کے بانڈز اور ٹریژری ییلڈز بھی کئی سال کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم ہیں۔ سعودی عرب سمیت دیگر اہم عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھی ایران کے ساتھ جاری تناؤ اور تیل کے بہاؤ پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے پیش نظر گراوٹ یا محتاط رویہ دیکھا جا رہا ہے۔ سرمایہ کار اس صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مارکیٹ کے اگلے ممکنہ قدم کا اندازہ لگایا جا سکے۔
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے عالمی معیشت پر دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ توانائی کی سپلائی لائنز متاثر ہونے سے مہنگائی میں ایک نیا طوفان آ سکتا ہے، جو دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کے لیے مانیٹری پالیسی کے فیصلوں کو مزید مشکل بنا دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وال اسٹریٹ اور دیگر بڑی منڈیوں میں سرمایہ کار فی الحال کسی بھی بڑے رسک سے گریز کرتے ہوئے محتاط انداز میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔