World
ڈونلڈ ٹرمپ کا شہزادہ ہیری اور میگن مارکل سے متعلق بڑا بیان
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ شہزادہ ہیری اور میگن مارکل نے امریکہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اس جوڑے نے برطانوی شاہی خاندان کے ساتھ انتہائی بدتمیزی کا مظاہرہ کیا۔
امریکہ کے نو منتخب اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر برطانوی شاہی خاندان کے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگن مارکل پر سخت تنقید کی ہے۔ اپنے ایک حالیہ بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے برملا اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ اس بات سے خوش ہیں کہ اس جوڑے نے امریکہ چھوڑنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے یا وہاں سے منتقل ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کبھی بھی اس جوڑے کے حامی نہیں رہے اور ان کے اقدامات کو ہمیشہ تنقید کی نگاہ سے دیکھا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ شہزادہ ہیری اور میگن مارکل نے اپنے طرزِ عمل سے برطانوی شاہی خاندان کے ساتھ انتہائی عدم احترام کا رویہ اختیار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جوڑے نے شاہی روایات کو پامال کیا اور ملکہ برطانیہ سمیت دیگر سینئر شاہی ارکان کے ساتھ نامناسب رویہ رکھا، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں شاہی خاندان کے چاہنے والوں میں بھی غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ ٹرمپ کا یہ بھی ماننا ہے کہ شاہی خاندان کے اندرونی معاملات کو عوامی سطح پر اچھالنا ایک غیر ذمہ دارانہ فعل تھا۔
واضح رہے کہ شہزادہ ہیری اور میگن مارکل نے سنہ 2020 میں شاہی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کا اعلان کیا تھا اور وہ برطانیہ چھوڑ کر امریکہ میں مقیم ہو گئے تھے۔ اس دوران اس جوڑے نے متعدد انٹرویوز دیے اور کتابیں لکھیں جن میں شاہی خاندان کے اندرونی تنازعات کو کھل کر بیان کیا گیا تھا۔ ان خبروں نے جہاں میڈیا میں خوب ہلچل مچائی وہیں سیاسی شخصیات بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی اس پر وقتاً فوقتاً کڑے ردعمل کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سیاسی اور عوامی شخصیات کس طرح شاہی جوڑے کے متنازع فیصلوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔ اس تازہ ترین بیان کے بعد میڈیا اور سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا شہزادہ ہیری اور میگن مارکل واقعی امریکہ میں مستقل رہائش کے حوالے سے کوئی نیا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں یا نہیں۔ دوسری جانب، شاہی خاندان یا ہیری اور میگن کی طرف سے ٹرمپ کے اس بیان پر فی الحال کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔