World
اسرائیلی وزیراعظم کا ایران کی حکومت ہٹانے کا دعویٰ
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ان کا ملک ایران کی موجودہ حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ یہ بیان مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور خطے میں بڑھتی ہوئی سیاسی و عسکری کشمکش کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
یروشلم: اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک اہم اور چونکا دینے والے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایران کی موجودہ حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے باقاعدہ طور پر کام کر رہا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوںممالک کے درمیان دیرینہ دشمنی اور تناؤ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے اور خطے میں ایک بڑی جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ بنجمن نیتن یاہو کے اس دعوے سے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اسرائیل اور ایران کے مابین جاری کشمکش اب صرف پراکسی جنگوں یا سرحدی جھڑپوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اب کھلے عام سیاسی تبدیلی اور حکومتوں کے خاتمے کی دھمکیوں تک پہنچ چکی ہے۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست عسکری کارروائیوں اور میزائل حملوں کا تبادلہ بھی دیکھا گیا ہے، جس نے خطے کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اسرائیلی قیادت کا ماننا ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت خطے کے امن اور اسرائیل کے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، اسی لیے اسے تبدیل کرنا اسرائیلی اسٹریٹجی کا حصہ بن چکا ہے۔
دوسری جانب، ایران کی طرف سے بھی اس قسم کے بیانات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ تہران کی حکومت ہمیشہ سے اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتی اور اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا عزم رکھتی ہے۔ ایرانی حکام نے بارہا خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل یا اس کے اتحادیوں کی طرف سے کوئی بھی بڑی حماقت کی گئی تو اس کا بھرپور اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔
بین الاقوامی برادری نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو کسی تباہ کن جنگ سے بچایا جا سکے، تاہم موجودہ زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے کشمکش میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔