World
کانگو میں ایبولا کے خطرات کے باوجود اسکول کھل گئے
جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کے شدید خدشات کے باوجود بچوں نے تعلیمی اداروں میں واپسی کا آغاز کر دیا ہے۔ مقامی حکام اور عالمی ادارے اسکولوں میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔
جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باوجود بچوں نے ایک بار پھر اسکولوں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں وبائی امراض کے سائے میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی ایک انتہائی چیلنجنگ مرحلہ ہے، جہاں والدین اور اساتذہ دونوں ہی بچوں کی صحت اور سلامتی کو لے کر شدید فکرمند دکھائی دے رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تعلیم کا سلسلہ تعطل کا شکار نہیں ہونا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ صحت کے بنیادی اصولوں پر سختی سے عمل درآمد بھی ناگزیر ہے۔
بین الاقوامی صحت کے اداروں اور مقامی وزارتِ صحت نے اسکولوں کے اندر حفاظتی انتظامات کو سخت کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ تعلیمی اداروں کے داخلہ راستوں پر ہاتھ دھونے کی سہولیات، سینیٹائزر کا استعمال اور درجہ حرارت چیک کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اسکولوں کی بندش سے بچوں کی تعلیم اور ذہنی نشوونما پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس لیے احتیاطی تدابیر کے ساتھ اسکولوں کو کھلا رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
دوسری جانب، والدین میں اس بات کا خوف پایا جاتا ہے کہ بچوں کا ایک جگہ اکٹھا ہونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ اس صورتحال میں اسکول انتظامیہ کی ذمہ داری دوگنی ہو گئی ہے کہ وہ نہ صرف بچوں کو تعلیم فراہم کریں بلکہ انہیں ایبولا سے بچاؤ کے طریقوں سے بھی آگاہ کریں۔ اساتذہ کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ کلاس رومز میں صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں اور کسی بھی مشکوک علامت کی صورت میں فوری طور پر طبی عملے کو مطلع کریں۔
حکومت اور امدادی تنظیمیں اس بحران سے نمٹنے کے لیے باہم تعاون کر رہی ہیں تاکہ تعلیمی عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔ کانگو کے عوام ماضی میں بھی کئی خطرناک وباء کا کامیابی سے مقابلہ کر چکے ہیں، اور اس بار بھی ان کا عزم ہے کہ وہ تمام تر خدشات کے باوجود اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنائیں گے۔ اسکولوں میں بچوں کی واپسی دراصل اس عزم کی عکاس ہے کہ مشکلات کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، زندگی اور تعلیم کا سفر رکتا نہیں۔