LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل غزہ سے فلسطینیوں کے انخلا پر بضد، وزیر دفاع کا بیان

News Image
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کا کوئی حقیقی حل فلسطینیوں کی آبادی کو وہاں سے ہٹائے بغیر ممکن نہیں۔ ان کے اس بیان سے خطے میں جاری کشیدگی اور انسانی بحران کے حوالے سے عالمی خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بار پھر اپنے متنازع مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اب بھی غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو ہٹانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے اپنے حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ان کے نزدیک غزہ کے تنازع کا کوئی بھی حقیقی یا پائیدار حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس خطے کو فلسطینی آبادی سے خالی نہ کرایا جائے۔ اس بیان نے ایک ایسے وقت میں جنم لیا ہے جب پہلے ہی غزہ کے اندر انسانی المیہ اپنے عروج پر ہے اور لاکھوں افراد کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس طرح کے بیانات کو جبری نقل مکانی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کی پالیسیاں نہ صرف خطے میں جاری امن کی تمام کوششوں کو پٹڑی سے اتار رہی ہیں بلکہ عام شہریوں کے مصائب میں بھی بے پناہ اضافہ کر رہی ہیں۔ دوسری جانب، اسرائیل کی عسکری اور سیاسی قیادت کی جانب سے مسلسل ایسے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ اس طویل مدتی تنازع کے حل کے لیے انتہائی سخت گیر مؤقف پر قائم ہیں۔ اسرائیل کاٹز کے اس بیان نے سفارتی حلقوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے، جہاں دنیا بھر کے ممالک اور عالمی ادارے اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ غزہ کی جنگ کے خاتمے کے بعد اس خطے کا مستقبل کیا ہوگا۔ عرب ممالک اور عالمی برادری پہلے ہی فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے کسی بھی منصوبے کی شدید مخالفت کر چکے ہیں، اور اس تازہ ترین بیان کے بعد خطے میں سیاسی اور عسکری محاذ پر مزید پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔